ملک اشرف : لیسکو افسران کے خلاف رشوت ستانی کے مقدمے میں لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے ایکسیئن لیسکو نوید کامران سمیت پانچ ملزمان کی عبوری ضمانتیں خارج کر دیں۔ ضمانت خارج ہوتے ہی عدالت کے باہر ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی، کئی ملزمان نے فرار ہونے کی کوشش کی جبکہ ایف آئی اے اور پولیس نے متعدد ملزمان کو موقع پر گرفتار کر لیا۔
جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایکسیئن باغبانپورہ نوید کامران ،ایس ڈی او محمود بوٹی تنویر خان سمیت دیگر ملزمان اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان پر فیکٹری کے مالک سے بھاری رشوت لینے کا الزام ہے اور انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کرپشن میں ملوث ہونے کے باوجود آج بھی اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں ،وکیلِ مدعی کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے اینٹی کرائم سرکل نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے، جس میں پیش رفت ضروری ہے۔دوسری جانب وکیلِ صفائی نے اپنے دلائل میں مؤقف اپنایا کہ ملزمان بے گناہ ہیں، تاہم عدالت ان کے دلائل سے مطمئن نہ ہو سکی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پانچ ملزمان کی عبوری ضمانتیں خارج کر دیں، جن میں ایکسیئن باغبانپورہ نوید کامران، ایس ڈی او تنویر خان، میٹر انسپکٹر نعیم اور دیگر شامل ہیں۔ضمانت خارج ہوتے ہی ملزمان نے کمرۂ عدالت سے نکل کر بھاگنے کی کوشش کی، تاہم ایف آئی اے اور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کئی ملزمان کو گرفتار کر لیا جبکہ بعض فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے،،ذرائع کے مطابق ایکسیئن نوید کامران اور ایس ڈی او لیسکو محمود بوٹی تنویر خان کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔۔مقدمہ اس وقت ایف آئی اے اینٹی کرائم سرکل کے تحت زیرِ تفتیش ہے اور ملزمان پر رشوت ستانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ملزمان کے خلاف ایف آئی اے، انٹی کرپشن سرکل نے 20 جون دو ہزار پچیس کو مقدمہ درج کیا تھا