ریڈ کراس نے حماس کی قید میں موجود اسرائیلی شہریوں کی خوفناک ویڈیوز وائرل ہونےکے بعد غزہ میں حماس کی قید میں رکھے گئے یرغمالیوں تک 'رسائی فراہم کرنے' کے اپنے مطالبہ کال کو دہرایا ہے۔
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے ریڈ کراس کی طرف سے آج دن کے اوائل میں جاری کیے گئے مطالبے کے بعد، آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کو "فوری طور پر طبی دیکھ بھال اور توجہ حاصل ہونی چاہیے" ریڈ کراس نے اپنے اس دیرینہ مطالبے کا اعادہ کیا کہ حماس اسرائیل سے اغوا کر کے یرحمال بنائے گئے افراد تک ریڈ کراس کے سٹاف کو رسائی کی اجازت دے۔
ایک بیان میں، آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ وہ "غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کی گزشتہ چند دنوں کے دوران شائع ہونے والی دلخراش ویڈیوز سے خوفزدہ ہے،" حماس کی طرف سے جاری کیے گئے پروپیگنڈہ کلپس کا حوالہ دیتے ہوئے جن میں یرغمالیوں روم براسلاوسکی اور ایویاتر ڈیوڈ کو دکھایا گیا ہے، ریڈ کراس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "یہ ویڈیوز جان لیوا حالات کا واضح ثبوت ہیں جن میں یرغمال بنائے گئے افراد کو رکھا جا رہا ہے۔ " "ہم جانتے ہیں کہ یہ ویڈیوز دیکھنے والے خاندان ان حالات سے خوفزدہ اور دل ٹوٹے ہوئے ہیں جن میں وہ اپنے پیاروں کو قید ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔"
آئی سی آر سی نے مزید کہا کہ یرغمالیوں کو "انسانی سلوک اور قابل قبول حالات میں ہونا چاہیے۔ انہیں فوری طور پر وہ طبی دیکھ بھال اور توجہ ملنی چاہیے جس کی انہیں ضرورت ہے۔"
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "جب تک یرغمالی قید میں ہیں، ہم ایک غیر جانبدار انسانی ہمدردی کے ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے اور کسی بھی مرحلے پر تمام یرغمالیوں کی رہائی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔"
آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ "ہم یرغمالیوں تک رسائی دینے کے لیے اپنی کال کا اعادہ بھی کرتے ہیں، تاکہ ہم ان کی حالت کا جائزہ لے سکیں، انھیں طبی امداد فراہم کر سکیں اور ان کے اہل خانہ سے رابطے میں سہولت فراہم کر سکیں،" ICRC کا کہنا ہے۔
ریڈ کراس کو 22 ماہ کی جنگ کے دوران حماس نے ایک بار بھی یرغمالیوں تک رسائی کی اجازت نہیں دی، اور ایسا کرنے میں ناکامی پر ریڈکراس کو اسرائیلی حکومت اور یہودی ڈایا سپورا گروپوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ تنظیم، جس کا کہنا ہے کہ اسے جنگی علاقوں میں کام کرنے کے لیے غیر جانبداری برقرار رکھنی چاہیے، نے نومبر 2023 میں اور دوبارہ جنوری سے فروری 2025 میں اسرائیلی اور دیگر غیر ملکی مغویوں کی رہائی میں صرف اتنی سہولت فراہم کی کہ جب حماس اور ایک دو کیسز مین اسلامک جہاد کے مسلح جتھوں نے رہا کئے جانے والے یرغمالی حوالے کئے تو وہ انہین اپنی گاڑیوں مین لاد کر اسرائیل کے فوجی حکام تک لے آئے۔ اس عمل کے دوران حماس اور اسلامک جہاد کے مسلح جتھوں نے یرغمالیوں کی تذلیل کرنے کے لئے ان کی اوبچے کنٹینروں پر چڑھا کر نمائش کی اور انہیں اغوا کاروں کی تعریفیں کرنے پر مجبور کیا تو ریڈکراس نے ان تمام کاموں مین کبھی کوئی مداخلت نہیں کی۔