مقبوضہ کشمیر پاکستان کے نقشے میں شامل

مقبوضہ کشمیر پاکستان کے نقشے میں شامل

(سٹی 42) وفاقی کابینہ اجلاس میں کابینہ نے پاکستان کے سرکاری نقشے کی منظوری دے دی۔ ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو سرکاری نقشے میں پاکستان کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے، پاکستان کی جانب سے نقشے کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔

پاکستان نے اپنی جغرافیائی حدود کا تعین کرتے ہوئے نیا سرکاری نقشہ پیش کردیا جس میں جموں و مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ نقشے میں لائن آف کنٹرول کو بھی واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔ کابینہ نے پاکستان کے سرکاری نقشے کی منظوری دے دی، مقبوضہ کشمیر کو سرکاری نقشے میں پاکستان کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے، پاکستان کی جانب سے نقشے کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس کے دوران سرکاری نقشے کی منظوری پر مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایک دن یہی پاکستان کا مستقل نقشہ ہوگا، کشمیر پاکستان کا ہے اور پاکستان کا رہے گا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس دوران 13 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جبکہ متعدد نکات کی منظوری دیدی گئی ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی کی تنظیم نو، پاکستان کے سرکاری نقشے کی تیاری اور اجراء سمیت وفاقی کابینہ نے سیما کمل کی ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک تعینات کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراوعظم عمران خا کو یوم استحصال کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، اجلاس کے دوران کابینہ اراکین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے غیر قانونی طور پر کشمیر کی آئنی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی، کشمیر میں بھارتی مظالم کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے، کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی، سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو کل یوم استحصال بھرپور طریقہ سے منانے کی ہدایت کی۔

ذرائع کے مطابق لداخ کے معاملے ہر بھی کابینہ کے اجلاس میں کھل کر گفتگو ہوئی، لداخ کے معاملے پر 1963 کے معاہدے کو زیر بحث لایا گیا۔