سٹی42: ٹرمپ ٹیرف پاکستان پر بھی نافذ ہونے کی اطلاع ملتے ہی وزیراعظم شہباز شریف نے جلدی جلدی ٹیمیں بنادی ہیں جو ٹیرف کے اثرات کا حساب لگائین گی اور "امریکہ کے ساتھ مذاکرات" کریں گی۔
شہباز شریف نے یہ دو "اہم اقدامات" ٹرمپ ٹیرف لگنے کے فوراً بعد اگلے ہی دن کر ڈالے ہیں۔ ٹیرف لگنے سے پہلے وہ ٹیرف لگنے کا انتظار کر رہے تھے۔
حکومت نے پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد امریکی ٹیرف عائد ہونے ککے بعد دو ٹیمیں بنادیں جنہیں سٹیرنگ کمیٹی اور ورکنگ گروپ کہا جا رہا ہے۔
دونوں ٹیمیں امریکا کے ساتھ ٹیرف کے معاملے پر "مذاکرات" کریں گی۔ یہ سامنے نہیں آیا کہ شہباز شریف کے نمائندے مذاکرات کرنے کے لئے واشنگٹن جایا کریں گے یا شہباز شریف مذاکرات کرنے کے لئے امریکی حکومت کو اسلام آباد بلوائیں گے۔
وزیرخزانہ اورنگزیب اسٹیئرنگ کمیٹی کے کنوینر جبکہ سیکرٹری تجارت جواد پالورکنگ گروپ کے کنوینر ہیں۔
اسٹیئرنگ کمیٹی ٹیرف کے معاملے پر "قائم ورکنگ گروپ کی نگرانی" کرے گی۔ ورکنگ گروپ میں متعلقہ سیکرٹریز،کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ کمیٹی میں وفاقی وزرا، وزیراعظم کے معاون خصوصی، چیئرمین ایف بی آر، سیکرٹری خارجہ، امریکہ میں سفیر، ڈبلیوٹی او میں نمائندے، ڈاکٹر اعجاز نبی منسٹرٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ واشنگٹن اور سیکرٹری تجارت شامل ہیں۔
وزیراعظم کو امریکی ٹیرف کے معاملے پر پیشرفت سے آگاہ رکھا جائے گا۔
اسٹیئرنگ کمیٹی کے ٹرم آف ریفرنس بھی جاری کردیے گئے، ورکنگ گروپ امریکی ٹیرف کا تجزیہ کرکے سفارشات مرتب کرے گا، امریکی اضافی ٹیرف سے پاکستانی مصنوعات پرممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جائے گا اور ورکنگ گروپ بدلتے عالمی تجارتی حالات میں دستیاب مواقع کا بھی تجزیہ کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تو پاکستانی مصنوعات پر بھی 29 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا جو 9 اپریل سے نافذ ہو گا۔ بنگلہ دیش پر 37 فیصد، ویتنام پر 39 فیصد، یورپی یونین پر 20 فیصد، چین پر 34 فیصد اور جاپان پر 24 فیصد ٹیرف، بھارت پر 26 فیصد اسرائیل پر 17 فیصد اور برطانیہ پر 10 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔