3 ستمبر 1945 کو جاپان نے دوسری جنگِ عظیم میں غیرمشروط ہتھیار ڈالے اور چین نے اپنی طویل اور خونریز جنگِ مزاحمت میں تاریخی فتح حاصل کی۔ اس دن کو وکٹری ڈے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جو چینی قوم کے لئے نہ صرف ایک تاریخی سنگِ میل ہے بلکہ قومی بقاء اور آزادی کی علامت بھی ہے۔
ابتدا میں یہ دن ایک یادگار تقریب کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس نے قومی تشخص اختیار کر لیا۔ 2014 میں اسے باقاعدہ قومی تعطیل قرار دیا گیا، اور 2015 میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر فوجی پریڈ منعقد ہوئی، جس نے اسے ایک قومی اور بین الاقوامی پیغام میں بدل دیا۔

بیجنگ کے ٹینانمن اسکوائر میں ہونے والی اس عظیم پریڈ کو دیکھنے کے لئے بڑی تعداد میں عوام موجود تھے جن مین بچے ، خواتین اور بزرگ بھی شامل تھے جنہوں نے پرجوش نعروں اور تالیوں کے ساتھ فوجی دستوں اور عسکری مظاہروں کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر اسکوائر عوام کے سمندر میں بدل گیا۔ اس تقریب میں ان جنگی ہیروز اور سپاہیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی افواج کے خلاف براہ راست حصہ لیا تھا،۔ ان کی موجودگی نے تقریب کو اور زیادہ تاریخی اور جذباتی رنگ دیا۔
ان لمحوں کو مزید تاریخی اس وقت بنا دیا گیا جب چین کے صدر شی جن پنگ سمیت روس، شمالی کوریا اور پاکستان کے سربراہان نے ان ہیروز کے ساتھ مصافحہ کیا اور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس منظر نے حاضرین اور ٹی وی ناظرین دونوں کے دلوں کو چھو لیا اور یہ پیغام دیا کہ چین اپنی آزادی کے لئے جانیں قربان کرنے والوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔یہ سپاہی چین کے لیے قربانی، اسقامت اور حب الوطنی کی زندہ مثال ہیں جنہین عوام نے پرجوش انداز میں خراج تحیسن پیش کیا ۔ اس تقریب کو نہ صرف چین کے اندر بلکہ دنیا بھر کے بین الاقوامی میڈیا نے بھی بھرپور کوریج دی، جس کے ذریعے کروڑوں ناظرین نے اسے براہِ راست دیکھا۔ عالمی نشریاتی اداروں نے اسے چین کی طاقت اور نئی عالمی حکمتِ عملی کا مظہر قرار دیا۔

وکٹری ڈے پریڈ میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے ہزاروں سپاہیوں نے شاندار انداز میں مارچ پاس کیا۔ ان کی قدم تال اور نظم و ضبط نے دنیا کو چین کی فوجی تربیت اور عزم کا عملی مظاہرہ دکھایا۔ اس موقع پر خواتین سپاہیوں کی شمولیت نے پریڈ کو اور زیادہ نمایاں کر دیا۔
چمکتے یونیفارم اور دلیرانہ انداز میں قدم سے قدم ملا کر مارچ کرنے والی یہ خواتین اس حقیقت کی علامت تھیں کہ چین کی فوج میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی قومی دفاع اور فوجی ذمہ داریوں میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ منظر چین کے اُس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کی ترقی اور سلامتی میں خواتین اور مرد برابر کے شریک ہیں۔
پریڈ کے دوران چین کے جدید لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے آسمان پر شاندار مظاہرہ کیا۔ یہ طیارے نہ صرف اپنی رفتار اور طاقت کے اظہار کے لیے اڑے بلکہ بیجنگ کے تاریخی مقامات کے اوپر سے گزرتے ہوئے ایک ثقافتی اور عسکری امتزاج بھی پیش کرتے نظر آئے۔یہ منظر چین کی عسکری جدید کاری اور ٹیکنالوجی میں خودکفالت کی عکاسی کرتا ہے۔ جدید لڑاکا طیارے، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور ایوی ایشن میں پیش رفت نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ چین نہ صرف زمین پر بلکہ فضاء میں بھی اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔