جہانگیر ترین سے اراکین اسمبلی کی ملاقات، اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

Meeting
Jahangir Tareen

قذافی بٹ: جہانگیرترین کی رہائش گاہ پر اراکین اسمبلی اور کارکنوں کا اجلاس، تیل دیکھو اورتیل کی دھار دیکھو، انتظار کرو کی پالیسی بنا لی۔ انصاف ملتا نظر آیا تودرست، نہ ملا تو فیصلہ کرنے میں آزادہوں گے۔

جہانگیرترین کی رہائش گاہ پر اراکین اسمبلی کی میٹنگ میں رہنماؤں نے وزیراعظم کی ملاقات کے بعد صورتحال کو عید تک دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق اراکین اسمبلی نے طے کیا کہ وزیراعظم کی جانب سے کروائی گئی یقین دہانیوں پر فی الوقت خاموشی اختیار کی جائے اور فی الحال کوئی ایسی بات نہ کی جائے جس سے معاملات بگاڑ کی طرف جائیں۔

اجلاس میں زیادہ اراکین کی رائے تھی کہ عید تک معاملات کو دیکھا جائے، یہ دیکھا جائےکہ بیرسٹر علی ظفر کیس کے حوالے سے کیا رپورٹ مرتب کرتے ہیں، اسے دیکھ کر فیصلہ کیا جائےگا۔ذرائع کے مطابق عید کے بعد جہانگیرترین گروپ مزید اراکین کا پاور شو کرےگا۔

دوسری جانب بینکنگ کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیرترین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم سے اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی انہوں نے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی، وزیر اعظم نے علی ظفر کو کیس کی ذمہ داری سونپی وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔جہانگیر ترین نے کہا کہ انہوں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اس کیس میں کوئی منی لانڈرنگ نہیں ہوئی، یہ فوجداری کیس نہیں ، یہ بزنس معاملات کا کیس ہے،اس میں پبلک فنڈ یا سیکرٹ فنڈ کا کوئی معاملہ نہیں۔

جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ایک سال سے میرے خلاف تفتیش ہورہی ہے، 78 پیشیاں بھگت چکے ہیں،ہم کیس ختم کرنے کی بات نہیں کررہے۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ میں شاہ محمود قریشی کی بات کا جواب نہیں دوں گا، ان کو ایسا کہنا نہیں چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ورکرز کیساتھ ساتھ خواتین بھی ہماری سپورٹ میں ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ ن لیگ یا پیپلز پارٹی سے ان کا کوئی رابطہ ہے۔