ضابطہ دیوانی میں ترامیم کاآرڈیننس آئین سےمتصادم قرار

 ضابطہ دیوانی میں ترامیم کاآرڈیننس آئین سےمتصادم قرار
high court

ملک اشرف: ضابطہ دیوانی میں ترامیم کاآرڈیننس آئین سےمتصادم قرار ،عدالت نےآرڈیننس کالعدم قرار دینےکامختصر  فیصلہ سنادیا۔وائس چیئرمین  پنجاب بار کونسل کی درخواست پر لاہورہائیکورٹ میں  سماعت 

 تفصیلات کےمطابق جسٹس شاہد کریم نےضابطہ دیوانی میں ترامیم کاآرڈیننس  سے متعلق وائس چیئرمین  پنجاب بار کونسل کی درخواست پرسماعت کی۔وائس چیئرمین  پنجاب بار کونسل کی جانب سےبیرسٹراحمد قیوم نےدلائل دیئے،درخواست میں پنجاب حکومت سمیت دیگر کوفریق بنایا گیا ۔

ایڈووکیٹ نصر احمد اور شہزاد شوکت نےعدالتی معاونت  کیلئےدلائل دیئے بیرسٹر احمد قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے ضابطہ دیوانی1908 میں ترمیم کی،ضابطہ دیوانی میں ترمیم کرکےسول عدالت کےفیصلےکےخلاف ڈسٹرکٹ جج کےپاس اپیل کرنےکاحق ختم کردیا گیا ۔

ضابطہ دیوانی میں ترمیم کرکے سول عدالت کےحتمی فیصلےکےخلاف اپیل کا حق ہائیکورٹ کو دیا گیا۔سول کوٹ میں ضابطہ دیوانی کےحتمی فیصلے کے خلاف نگرانی کےحق کوبھی محدود کردیا گیا۔ضابطہ دیوانی میں تمام شہادتیں لوکل کمیشن کےذریعے کی جانے کے حوالے سے ترمیم کی گئی ہے۔5کروڑ سے زائد کے دیوانی دعوے اب سول کورٹ کی بجائےڈسٹرک جج کے پاس سنی جائیں گی۔ہائیکورٹ نےتین سال پہلے 5 کروڑ روپے تک کے دعوؤں کی اپیلیں ڈسٹرکٹ جج کے پاس بھجوانے کا نوٹیفکیشن  جاری کررکھا ہے۔ ہائیکورٹ میں5 کروڑ روپے تک کی تمام دعویٰ متعلقہ ڈسٹرکٹ جج کو بھی بھجوا دیئےتھے۔ضابطہ دیوانی میں ترمیم ایک آرڈیننس کے تحت کی گئی جو قانونی تقاضے پورے نہیں کرتا ۔

درخواست گزاروائس چیئرمین پنجاب بار کونسل کےوکلا کی جانب سےاستدعا کی گئی کہ عدالت ضابطہ دیوانی میں ترمیم کااقدام کالعدم قرار دے ۔پنجاب حکومت کے وکیل کی جانب سے درخواست کی مخالفت کی گئی۔لاء افسر کا کہنا تھا کہ قانونی تقاضے پورے کرتےہوئےضابطہ دیوانی میں ترمیم کا آرڈیننس جاری  کیاگیا۔ پنجاب بار کےوکلاءنے جواب دیا کہ پہلےآرڈیننس  جاری کیا گیا پھر دستاویزات تیار کی گئیں۔عدالت نے فریقین کےوکلاء کوسننےکےبعدضابطہ دیوانی میں ترمیم کاآرڈیننس  آئین سےمتصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔