ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا شہریوں کی جائیدادیں سا لہا سال تک بلاک رکھنے پر ایل ڈی اے پر اظہار برہمی

 لاہور ہائیکورٹ کا شہریوں کی جائیدادیں سا لہا سال تک بلاک رکھنے پر ایل ڈی اے پر اظہار برہمی
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے شہریوں کی جائیدادوں کو طویل عرصے تک بلاک رکھنے کے معاملے پر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو مقررہ مدت میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

جسٹس مسعود عابد نقوی نے ایل ڈی اے کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان پیش ہوئے جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے خرم شہزاد بھٹی، دیگر افسران اور اے ڈی سی آر لاہور کریم داد چغتائی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر عدالت نے ایل ڈی اے کے نمائندوں سے استفسار کیا کہ وہ واضح کریں اراضی ایکوزیشن کی کارروائی کتنے عرصے میں مکمل کی جا سکتی ہے۔ جس پر ایل ڈی اے کے نمائندے نے موقف اختیار کیا کہ اگر نجی فریق زمین کے بدلے پلاٹ لینے پر آمادہ ہو جائے تو ایک ماہ میں کارروائی مکمل کی جا سکتی ہے، تاہم اگر اے ڈی سی آر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جائے تو ایکوزیشن کے عمل میں تقریباً چھ ماہ درکار ہوں گے۔اس موقع پر جسٹس مسعود عابد نقوی نے ایل ڈی اے کی کارکردگی پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ شہریوں کی جائیدادیں سالہا سال بلاک رکھنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ عدالت نے کہا کہ متاثرہ فریق پلاٹ لینے پر آمادہ نہیں، لہٰذا قانون کے مطابق اسے مناسب معاوضہ ادا کیا جائے۔
،عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ 2014-15 سے زیر التوا چلا آ رہا ہے اور مزید چھ ماہ کی مہلت دینا مناسب نہیں ہوگا۔ جسٹس مسعود عابد نقوی نے کہا کہ عدالت ایل ڈی اے کی جانب سے غیر ضروری تاخیر کو قبول نہیں کرے گی۔،سماعت کے دوران اے ڈی سی آر لاہور کریم داد چغتائی سے اراضی کی قیمت کے تعین کے حوالے سے بھی استفسار کیا گیا۔ اے ڈی سی آر نے عدالت کو بتایا کہ قیمت کا تعین ایک ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔ تاہم عدالت نے اس جواب کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اراضی کی قیمت کا تعین 15 روز کے اندر کیا جائے۔بعد ازاں عدالت نے حکم دیا کہ اے ڈی سی آر 15 دن میں قیمت کا تعین مکمل کریں جبکہ ایل ڈی اے ڈھائی ماہ کے اندر ایکوزیشن کی کارروائی مکمل کرے۔

 جسٹس مسعود عابد نقوی نے واضح کیا کہ تمام عمل مجموعی طور پر تین ماہ کے اندر مکمل ہونا چاہیے۔نجی فریق کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ متاثرہ شہری کو موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ دیا جائے۔ اس پر عدالت نے قرار دیا کہ اگر فریق معاوضے کی رقم سے مطمئن نہ ہو تو اسے قانون کے مطابق دستیاب فورمز سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا۔دوران سماعت ایل ڈی اے نے اے ڈی سی آر کے اختیار اور ایکوزیشن منسوخی کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اے ڈی سی آر کا فیصلہ غلط ہے اور اسے کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ فریقین کے درمیان مفاہمت نہیں ہو سکی، اس لیے آئندہ سماعت پر کیس کے قانونی پہلوؤں اور اے ڈی سی آر کے اختیارات سے متعلق تفصیلی دلائل سنے جائیں گے۔بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے مزید کارروائی کے لیے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔