ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران درختوں کے تحفظ اور ان کی غیر ضروری کٹائی روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے عدالت کو آگاہ کیا گیا۔ عدالت نے پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کی جانب سے بیرسٹر مریم حیات نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔بیرسٹر مریم حیات نے عدالت کو بتایا کہ پی ایچ اے نے لیسکو کے لیے درختوں کی کانٹ چھانٹ اور کٹائی کے حوالے سے باقاعدہ ایس او پیز جاری کر دیے ہیں۔ اسی طرح محکمہ آبپاشی کو بھی نہروں اور بھل صفائی کے دوران درختوں کے تحفظ سے متعلق ایس او پیز فراہم کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ نئے طریقہ کار کے تحت اب کوئی بھی سرکاری محکمہ پی ایچ اے کی پیشگی اجازت کے بغیر درختوں کی کانٹ چھانٹ یا کٹائی نہیں کر سکے گا۔ ان اقدامات کا مقصد شہری علاقوں میں درختوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ماحولیاتی آلودگی، خصوصاً سموگ کے تدارک کے لیے سبزہ برقرار رکھنا ہے۔سماعت کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز، ماحولیاتی کمیشن کے رکن اور سیکرٹری سمیت متعلقہ حکام بھی عدالت میں موجود تھے۔
عدالت نے متعلقہ اداروں کو ماحولیاتی تحفظ اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔