ملک اشرف : لاہور ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے برطرف سول جج کم مجسٹریٹ محمد داؤد ساہی کو سروس میں بحال کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے CPLA نمبر 1847-L/2018 میں مورخہ 14 مارچ 2025 کو فیصلہ سنایا تھا، جس میں 11 مئی 2018 کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا گیا۔ اس فیصلے کی روشنی میں لاہور ہائی کورٹ نے نوٹیفکیشن نمبر 64/RHC/CJJ مورخہ 6 مئی 2013 واپس لے لیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ محمد داؤد ساہی کو 6 مئی 2013 سے بطور سول جج کم مجسٹریٹ بحال تصور کیا جائے گا، جو وہ تاریخ ہے جب انہیں لازمی طور پر سروس سے ریٹائر کیا گیا تھا۔ بحالی کے بعد انہیں سول کورٹ لاہور میں بطور او ایس ڈی (OSD) تعینات کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ محمد داؤد ساہی کو ملنے والے سابقہ مالی واجبات، بیک بینیفٹس اور دیگر سہولیات کا فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا، اور یہ معاملہ تادیبی کارروائی کے نتائج سے مشروط ہوگا۔
لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کی نقول سپریم کورٹ آف پاکستان، وفاقی آئینی عدالت، وفاقی شرعی عدالت، اسلام آباد ہائی کورٹ، حکومتِ پاکستان کے قانون و انصاف ڈویژن، لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان، چیف سیکرٹری پنجاب، ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری، تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور دیگر متعلقہ اداروں کو معلومات اور ضروری کارروائی کے لیے ارسال کر دی گئی ہیں۔قانونی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد اور ماتحت عدلیہ کے امور میں شفافیت کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

