ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے منشیات کیس میں آئی جی پنجاب کو کل ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ملزم سفیر عرف کاکا کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ ملزم کی جانب سے چوہدری عمران رضا چدھڑ ایڈوکیٹ پیش ہوئے، جبکہ پولیس کی نمائندگی اے آئی جی انسپکشن اینڈ انکوائری شائستہ نے کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کے خلاف تھانہ سول لائن، منڈی بہاؤالدین میں 1120 گرام ہیروئن برآمدگی کا مقدمہ درج ہے۔ وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس میں پولیس نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے اور اس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔چوہدری عمران رضا چدھڑ ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر کے متن کے مطابق ہیروئن کی برآمدگی پختہ سڑک سے ظاہر کی گئی ہے، تاہم پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے چالان کے ساتھ ملزم کی گرفتاری کی تصاویر کچے راستے کی ہیں۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ ایس ایچ او کی پریس کانفرنس میں ملزم کے کپڑوں کا رنگ سیاہ تھا، جبکہ چالان کے ساتھ ملزم کی تصاویر میں کپڑوں کا رنگ پیلا ظاہر کیا گیا ہے۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی نے استفسار کیا کہ انکوائری کے متعلق کیا ثبوت موجود ہیں۔ وکیل نے بتایا کہ اے آئی جی انسپکشن کے تین لیٹرز موجود ہیں، جن میں ایس ایچ او سمیت 8 اہلکاروں کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ وکیل کے مطابق اے آئی جی لیگل کی انکوائری میں بھی یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکاروں نے ہیروئن پلانٹ کی اور سفارش کی گئی کہ برآمدگی کا مقدمہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کیا جائے، جبکہ ملزم کو جیل سے رہا کرکے مقدمے کی تفتیش کی جائے۔اس پر عدالت نے اے آئی جی انسپکشن سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ لیٹر انہی کی جانب سے لکھا گیا ہے، جس پر انہوں نے تصدیق کی کہ یہ لیٹر انہوں نے ہی تحریر کیا ہے۔
اے آئی جی انسپکشن نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے بعد ازاں ضلع کی سطح پر نئی انکوائری مکمل کی ہے اور اب وہ پہلے جاری کیے گئے انکوائری لیٹرز واپس لینا چاہتی ہیں۔عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا ضلع کی سطح کی انکوائری میں آئی جی پنجاب کو جھوٹے مقدمے سے متعلق درخواست دینے والی مدعیہ کو طلب کیا گیا تھا۔ اے آئی جی انسپکشن نے جواب دیا کہ پولیس کے مطابق مدعیہ کو بلایا گیا تھا، تاہم وہ پیش نہیں ہوئیں، اور انہیں زبانی طور پر طلب کیا گیا تھا۔اس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی انکوائری کرنے کے بعد محض زبانی طلبی کی بنیاد پر انکوائری کو کیسے واپس لیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے مزید استفسار کیا کہ اگر کسی مقدمے میں ملزم پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کیا جائے تو اس کی انکوائری کے لیے کیا کوئی علیحدہ افسر مقرر کیا جاتا ہے۔ اے آئی جی انسپکشن نے بتایا کہ ایسی صورت میں تفتیش مقامی پولیس ہی کرتی ہے اور کوئی علیحدہ سینئر افسر تعینات نہیں کیا جاتا۔عدالت نے آئی جی پنجاب کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔