ڈولفن سکواڈ لاہور پولیس کیلئے"سفید ہاتھی"بن گیا

ڈولفن سکواڈ لاہور پولیس کیلئے

(عرفان ملک) ڈولفن سکواڈ لاہور پولیس کیلئے" سفید ہاتھی"بن گیا، ڈولفن کے دفاتر، گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور تنخواہ کیلئے بڑی رقم کی ضرورت ہے۔ لاہور پولیس کو سالانہ گیارہ ارب روپے کا بجٹ ملتا ہے، لیکن صرف ڈولفن سکواڈ کیلئے سالانہ ایک ارب چوراسی کروڑ درکار، اضافی بجٹ پر سی پی او کے افسران پریشان۔

ڈولفن سکواڈ کو ترکی کی طرز پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی خواہش کے مطابق شروع تو کر دیا گیا جس میں ابتدائی طور پر تین ہزار اہلکاروں کو بھرتی کیا گیا، ابتک چھ سو ہیوی بائیکس کے ساتھ ساتھ پولیس رسپانس یونٹ کی ایک سو دس کرولا گاڑیاں دی گئی ہیں۔ ڈولفن سکواڈ کے اہلکاروں کی ٹریننگ پر جہاں کروڑوں روپے خرچ کیے گئے وہیں اربوں روپے سے ڈولفن سکواڈ کے لیے ہر ڈویژن میں دفاتر کے ساتھ ساتھ والٹن روڈ پر ہیڈ کوارٹر بھی تعمیر کرا کر دیا گیا۔

لاہور پولیس نے ڈولفن ہیڈ کوارٹر کی بلڈنگز مکمل ہونے کے بعد انکا استعمال شروع تو کر دیا ہے، تاہم لاہور پولیس کی جانب سے سالانہ ایک ارب چوراسی کروڑ روپے کا بجٹ منظوری کے لیے جب سی پی او آفس بھیجا تو افسران کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ لاہور پولیس کو تو سالانہ گیارہ ارب روپے دیئے جاتے ہیں اور ڈولفن سکواڈ کے بڑے خرچے کی ڈیمانڈ سے پولیس کا بجٹ متاثر ہو گا۔ سی پی او کے افسران نے متعلقہ پولیس افسران کو اپنے اخراجات کنٹرول کرنے کی بھی ہدایت کر دی ہے۔

ڈولفن سکواڈ کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ڈولفن سکواڈ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھائی گئی۔ سینئر پولیس افسران کا کہنا تھا کہ اگر تھانوں کی پولیس کو اتنی سہولیات دی جاتیں تو بہت کم پیسوں میں پولیس کی کارکردگی کو بڑھایا جا سکتا تھا۔