سٹی42: گٹر میں گرکر بچے کی وفات کے سانحہ کو لے کر کراچی کے ادارے ایک دوسرے کی کوتاہیوں کی نشان دہی کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو سانھے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ آج کراچی میونسپل کارپوریشن نے نیپا چورنگی کے گٹر کا مین ہول نہ ہونے کا ذمہ دار کراچی کی بس ریپڈ ٹرانزیشن سسٹم کی انتظامیہ بی آر ٹی کو ٹھہرایا تھا، بی آر ٹی نے کے ایم سی کے الزامات مسترد کر دیئے۔
یہ بھی پتہ چل چکا ہے کہ گٹر کا ڈھکن کسی گاڑی کے گزرنے سے ٹوٹا تھا۔ ایک فوٹیج سے یہ تصدیق ہو گئی کہ سانحہ ہونے کے وقت بچہ والدہ کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑوا کر سامنے کھڑے والد کے پاس جا رہا تھا۔ چند فٹ کے فاصلہ میں ہی سانحہ ہو گیا۔
اس واقعہ کی ویڈیوز بھی سامنے آ گئی ہیں اور جس گٹر کا ڈھکن غائب تھا، اس ڈھکن کے ہٹنے کی وجہ بھی ویڈیو ایویڈنس کے ساتھ سامنے آ گئی ہے۔
ایک سی سی ٹی وی ویڈیو میں سانحہ میں جان سے جانے والے بچے کو اپنی والدہ کے ساتھ شاپنگ سینٹر سے نکلتے اور پھر والد کی طرف دوڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک طرف بچے کی والدہ تھی، دوسری طرف بچے کا والد تھا، اور اس دوران بچہ کھلے مین ہول میں جاگرا۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی جانب سے نیپا چورنگی کے قریب گٹر میں گر کر بچے کی ہلاکت کے واقعے کا ذمہ دار ٹھہرائے جانے پر بی آر ٹی ریڈ لائن انتظامیہ نے مؤقف جاری کر دیا۔
بی آر ٹی ریڈ لائن انتظامیہ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ واقعے کی جگہ بی آر ٹی ریڈ لائن کے تعمیراتی کاموں سے خاصے فاصلے پر ہے، واقعے کے مقام یا آس پاس بی آر ٹی ریڈ لائن کی کوئی کھدائی یا تعمیراتی سرگرمی نہیں ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ بی آر ٹی منصوبے کی اس سیوریج یا نالے کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، بی آر ٹی حادثے کے مقام یا اس کے قریب کسی قسم کا سول ورکس بھی انجام نہیں دے رہی۔
اعلامیے کے مطابق بی آر ٹی کے تمام جاری کام متعلقہ اداروں سے این او سی حاصل کرنے کے بعد شروع کیے گئے ہیں، جو کھدائی کی گئی تھی اور بعد میں بند کی گئی وہ واقعے کی جگہ سے تقریباً 300 میٹر دور ہے۔
ایک ویڈیو ریکارڈنگ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ نیپا پر نجی اسٹورکے باہر موجود گٹر کا ڈھکن ڈمپر گزرنے کے باعث ٹوٹا تھا۔ کے ایم سی نے اس حادثے کا ذمہ دار بی آر ٹی اور نجی اسٹور انتظامیہ کو قرار دیا۔ بی آر ٹی نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میونسپلٹی کے کئی ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر سطح کے افسروں، انجینئیروں کے ساتھ ایک اسسٹنٹ کمشنر گلشنِ اقبال کو بھی معطل کر دیا۔
نیپا چورنگی پر مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد مل گئی تھی۔ اس سانحہ نے شہر کو گہرے صدمہ سے دوچار کر دیا تھا۔
کے ایم سی کی رپورٹ
کے ایم سی نے گلشن اقبال ٹاؤن میں نیپا فلائی اوور کے قریب نجی اسٹور کے سامنے بچے کا گٹر میں گرنے کے واقعے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ سیکرٹری محکمہ بلدیات کو بھجوا دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معائنے میں ثابت ہوا حادثے کی وجہ بی آر ٹی تعمیرات تھیں، بی آر ٹی منصوبے کی کھدائی کے باعث نالے کے پورے نکاسی کے نظام شدید نقصان پہنچایا، عارضی دو فٹ کے کور لگا کر گٹروں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔