ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف; پاکستان کو کچھ فرق نہیں پڑے گا

Trump Tariffs, Pakistan USA Trade Balance, city42
کیپشن: ٹرمپ کے ٹیرفس سے کینیڈا اور میکسیکو کو بہت تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرمپ کے ٹیرف بنگلہ دیش اور ویتنام کو بھی اذیت ناک صورتحال سے دوچار کریں گے لیکن ٹرمپ کے ٹیرفس نے پاکستان کی ایکسپورٹس کو پر کوئی اثر نہیں ڈالا، یہ ٹیرفس نہ پاکستانی ایکسپورٹس پر کوئی  منفی اثر ڈالین گے نہ پاکستان امریکہ تعلق پر؛  سٹی42 نے یہ لکھ دیا، دو ماہ بعد خود تسلی کے ساتھ تصدیق کر لیجئے گا۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 وسیم عظمت:  صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی ٹیرف سپری  آگے بڑھی تو پاکستان کی پروڈکٹس پر بھی ٹیرف میں  12 فیصد اضافہ ہو گیا لیکن پاکستان کی امریکہ کے لئے ایکسپورٹس پر ٹرمپ ٹیرفس کا منفی اثر نہ ہونے کے برابر ہو گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ھکومت نے پاکستانی ایکسپورٹس پر 29 فیصد ٹیرف نافذ کیا ہے۔  پاکستان کی امریکہ کے لئے ایکسپورٹس امریکہ سے پاکستان کیلئے امپورٹس کے مقابلے مین زیادہ ہیں۔
 صدر ٹرمپ کی ھکومت نے ویتنام، بنگلہ دیش، انڈیا  کی پروڈکٹس پر بھی نئے ٹیرف کا اعلان کیا گیا ہے۔ 

پاکستان سے امریکہ کو سرجیکل آلات، ٹیکسٹائل پروڈکٹس اور لیدر پروڈکٹس ایکسپورٹ کی جاتی ہیں۔ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن نے  انڈیا پر 26 فیصد اور بنگلہ دیش پر 37 ٹیرف لگایا ہے جبکہ  ویتنام پر بھی 46 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔ چین کو  34 فیصد ٹیرف کا ٹرمپی گفٹ ملا ہے۔ 

انڈیا، بنگلہ دیش اور ویتنام کی پروڈکٹس امریکہ اور یورپی یونین میں پاکستان  کی پروڈکٹس کا مقابلہ کرتی ہیں۔ ان تمام ہی ممالک پر ٹرمپ ٹیرف پاکستان کے یا تو  برابر ہے یا پاکستان سے زیادہ۔ 

بنگلہ دیش، ویتنام اور چین پر ٹیرف کا بوجھ قدرے زیادہ ہے۔ ام ممالک پر ٹیرف  بالترتیب 37 فیصد،  46 فیصد اور 34 فیصد  ہے۔

کوئی فرق نہیں پڑا!

پاکستان کے ازلی دشمنوں نے ٹرمپ ٹیرف کے باقی دنیا پر نفاذ کے سنے سنائے نتائج کو کاپی کرتے ہوئے پاکستان کی ایکسپورٹس پر بھی ٹرمپ ٹیرف کے برے نتیجوں اور بہت برے اثرات کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیا ہے لیکن پاکستان کے ضمن میں حقیقت یہ ہے کہ "کوئی فرق نہیں پڑا"

پاکستان کی دنیا کے ساتھ تجارت میں امپورٹس زیادہ اور ایکسپورٹس کم ہیں، جو ایکسپورٹس ہو رہی ہیں ان میں ایک سائزیبل حصہ امریکہ کی مارکیٹ میں جا رہا ہے، یہاں ہماری ایکسپورٹس کم ہوئیں تو یقیناً نصان ہو گا لیکن صرف ٹیرف کی نفاذ سے امپورٹس کم ہونے کا کوئی فوری خدشہ نہیں۔


امریکہ کی مارکیت میں صرف پاکستانی مصنوعات ہی مہنگی نہیں ہوں گی بلکہ بنگلہ دیش، انڈیا ، چین اور ویت نام کی مصنوعات بھی  کچھ زیادہ  ٹیرف کی زد میں آئیں گی۔

برانڈ پاکستان کی اپنی ہی شان

خود ترسی کے مارے لاکھوں کروڑوں لوگوں کے لئے "برانڈ پاکستان کی شان" غالباً کبھی نہ سنی ایک فریز ہو گا لیکن حیقیت میں میڈ اِن پاکستان پروڈکٹس مین سے کچھ ایسی ہیں جنہیں ان کے خرید کر استعمال کرنے والے بہترین سٹف مان کر خریدتے اور استعمال کرتے ہیں، بہترین کو حاصل کرنے کے لئے اضافی قیمت بھی ادا کرنا پرے تو یقیناً وہ کنزیومر بہترین پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔



پاکستان کی امریکہ کے ساتھ تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں ہے۔ فروری میں پاکستان نے امریکہ کو 40 کروڑ ڈالر سے زائد کی مصنوعات برآمد کیں اور 13 کروڑ ڈالر کی اشیا درآمد کیں۔موجودہ مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں پاکستان نے امریکہ کو تقریباً تین ارب ڈالر  کی ایکسپورٹس کیں۔ گزشتہ سال پاکستان کی  امیرکہ کیلئے ایکسپورٹس پانچ ارب ڈالر سے زائد تھیں۔
پاکستان کی ایکسپورٹس میں ٹیکسٹائل   تجارت کا نوے فیصد  ہیں۔ پاکستان سے امریکہ کو لیدر پروڈکٹس، فرنیچر، پلاسٹک، سلفر، معدنی نمک، سیمنٹ، کھیلوں کا سامان، قالین، فٹ ویئر اور دوسری اشیا برآمد کی جاتی ہیں۔

امریکہ سے پاکستان امپورٹس میں خام کپاس، سٹیل، مشینری، بوائلرز، پرانے کپڑے، کیمیکلز، ادویات شامل ہیں۔


 نئے ٹیرف کے بعد پاکستانی  پروڈکٹس پر کتنا اثر پڑے گا

اس سوال کا حتمی جواب تو پاکستان کے ہر ایکسپورٹر کی انفرادی کیلکولیشن سے ملے گا جسے مکمل ہونے میں کئی ہفتے لگیں گے، موجودہ آرڈرز مین کوئی کمی ہوئی تب ھی اسے وقت لگے گا، اضافہ ہوا تو بھی وقت بہرحال لگے گا۔  سر دست یہ دیکھا جا رہا ہے کہ انڈیا، بنگلہ دیش، ویتنام زیادہ بری طرح الجھے ہوئے ہیں۔ انڈیا پر ٹیرف  26 فیصد ہے لیکن اندیا صرف لیدر پروڈکٹس کی ایکسپورٹس میں پاکستان کا مقابلہ کرتا ہے وہ بھی  اس نوعیت کا ہے کہ پاکستانی مینیوفیکچرر اس ٹیرف امپیکٹ کو با آسانی مینیج کر لین گے جبکہ بھارتی مینیوفیکچررز کے لئے یہ ٹیرف زیادہ پریشانیاں لا سکتا ہے۔ 

جن لوگوں نے گزشتہ چند ہفتوں کے ٹرمپ ٹیرفس کے آن سلاٹ سے نسفیاتی اثر لے کر یہ فرض کر لیا کہ ٹرمپ ٹیرف کا لازمی نتیجہ اس کی زد میں آنے والی پروڈکٹس بنانے والوں کا نقصان ہی ہو گا، وہ پاکستان کی ایکسپورٹس پر تیرف کے امپیکٹ کو اندھا دھند اسی مفروضہ کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن خود ہی پریشان ہو کر مبہم نتائج میں پناہ لے رہے ہیں۔

ایس ڈی پی آئی  SDPI انسٹیوٹ برائے پائیدار ترقی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری بھی  اس موضوع پر اس سوال کا سامنا پرنے کی بجائے "جوابی ٹیرف" لگانے کے ضمن میں پاکستان کے ہینڈی کیپ کی "نشاندہی" کر کے ٹرمپ ٹیرفس کے سٹیریو ٹائپ امپیکٹ بتانے والے "ایکسپرٹس" کی صف میں کھڑے  پائے گئے۔

 عابد قیوم سلہری نے کہا ،  چین اور انڈیا جیسے ممالک تو جوابی ٹیرف لگا کر امریکی مصنوعات کو مہنگا کریں گے لیکن ہمارے پاس یہ آپشن نہیں کیونکہ امریکہ سے پاکستان آنے والی اشیا کا حجم کم ہے۔امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرف کے نفاذ کے بعد امریکی صارفین کے لیے یہ مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی اور جس میں پاکستان کی مصنوعات بھی شامل ہیں۔ عابد قیوم سلہری نے اچانک کسی ٹھوس وجہ کو بیان کئے بغیر  یہ صورتحال یقینی طور پر ایک نقصان دہ صورتحال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سلہری نے دراصل  ٹرمپ ٹیرفس پر دنیا کے عمومی ردعمل کو ہی پاکستان کے حوالے سے بھی ریفلیکٹ کیا اور یہ  سوچنے کی زحمت کی نہین کہ کہ پاکستان کو امریکہ یا کسی بھ یدوسرے ملک کی امپورٹس پر ٹیرف لگانے کی ضرورت کیا ہے، جب یہ ضرورت پیدا ہو گی تو یقیناً اس سے پاکستان کا کوئی فائدہ ہی ہو گا، "ٹرمپ کے پاکستانی ایکسپورٹس پر ٹیرف کے درعمل "  میں پاکستان کو کوئی ٹیرف لگانے کی بطاہر کوئی ضرورت نہیں۔

 پہلے پاکستان سے امریکہ برآمد کی جانے والی اشیا پر 17 فیصد کے لگ بھگ ٹیرف تھا اور اب اس میں 12 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو امریکہ کی داخلی ضرورت ہے۔ پاکستان کس امپورٹڈ پروڈکت کے سارتھ کیا کرنا پسند کرتا ہے اس کا انحصار ردعمل پر نہیں پاکستان کی داخلی ضرورت پر ہی ہو گا۔