لاک ڈاؤن میں سختی، ڈاکٹرز ڈیوٹیوں پر نہ پہنچ سکے

لاک ڈاؤن میں سختی، ڈاکٹرز ڈیوٹیوں پر نہ پہنچ سکے

( زاہد چوہدری ) لاہور پولیس نے لازمی خدمات کیلئے استثنا کا حکم ہوا میں اڑا دیا، ناکوں سے گزرنے کی پابندی کے سبب بیشتر ڈاکٹر، نرسز، پیرامیڈیکس ڈیوٹیوں پر نہ پہنچ سکے۔ میڈیکل ایمرجنسی کے دوران ہسپتالوں میں عملے کی حاضری غیر معمولی متاثر رہی۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کے لازمی سروسز کو دیئے گئے استثنا کے فیصلے کو لاہور پولیس نے ہوا میں اڑا دیا ہے۔

شہر میں جمعرات کی شام سے جمعہ کی سہ پہر تک جاری لاک ڈاؤن کے دوران ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس کو بھی پولیس ناکوں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے میڈیکل ایمرجنسی کے باوجود بیشتر ڈاکٹر اور طبی عملہ ڈیوٹی پر نہ پہنچ سکا۔

ڈاکٹرز اور عملے کی حاضری کم ہونے سے ہسپتالوں میں علاج معالجہ بری طرح متاثر ہوا۔ اس کے علاوہ ناکوں پر پولیس کی جانب سے اشیائے خوردونوش لے کر آنے والی گڈز ٹرانسپورٹ کو بھی روک لیا گیا جس سے اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہونے کے ساتھ قیمتیں بڑھنے کا بھی خدشہ ہے۔  

لاہور پولیس نے لاک ڈاؤن کے دوران ناکوں پر سختی کردی اور شہر کی اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا اور ناکوں پر پولیس لائنز سے مزید نفری تعینات کر دی گئی۔ ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق فیروز پور روڈ جنرل ہسپتال سے اسلام پورہ، جیل روڑ لبرٹی سے قرطبہ چوک تک اور پل نہر مال روڑ سے جمخانہ تک روڈ کو بند کردیا گیا۔

اسی طرح جی پی او چوک سے آزادی فلائی آور اور مغلپورہ شالیمار لنک روڈ، ایک موریہ پل، جی ٹی روڈ دروغہ والا سڑک کو بند کردیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے ٹریفک کو بند کیا گیا۔