سٹی42: پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال بدستور برقرار , نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 3ستمبر تک ممکنہ بارشوں کے باعث سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 53 ہزار کیوسک اور سلیمانکی پر 1 لاکھ 24 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ مزید بارشوں اور ڈیموں سے اخراج کی صورت میں یہ بہاؤ 3 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ پر 96 ہزار کیوسک، خانکی ہیڈ ورکس پر 1 لاکھ 20 ہزار اور قادرآباد پر 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک کا بہاؤ ہے، جب کہ ہیڈ تریموں پر 5 لاکھ 16 ہزار کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس میں جسڑ پر 54 ہزار، شاہدرہ پر 60 ہزار، بلوکی پر 1 لاکھ 37 ہزار اور ہیڈ سدھنائی پر 1 لاکھ 7 ہزار کیوسک کا بہاؤ ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق راوی میں پانی کی مقدار 1 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک پہنچ سکتی ہے۔ دریائے چناب سے منسلک ندی نالوں، جیسے جموں توی، منور توی اور پلکھو میں بھی پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ متوقع ہے، جو نشیبی علاقوں، پشتوں، فصلوں اور بستیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق 5 ستمبر تک دریاؤں راوی، ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، بالائی علاقوں میں مزید بارشیں صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ این ڈی ایم اے ملک بھر میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر 24 گھنٹے فعال ہے۔
ادھر بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑا گیا ہے جس کی اطلاع پاکستان کو انڈس واٹر کمیشن کے بجائے غیر رسمی طریقے سے دی گئی۔ اس کے بعد پنجاب کے 9 اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا۔ راوی، ستلج اور چناب کے سیلاب سے اب تک 24 لاکھ افراد متاثر، 9 لاکھ بے گھر اور 41 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ ہزاروں بستیاں زیر آب آ چکی ہیں۔
ملتان میں ہیڈ محمد والا کے مقام پر دریائے چناب کا بڑا سیلابی ریلا داخل ہو چکا ہے، جس کی شدت کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے بریچنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ جھوک وینس سے ہیڈ محمد والا تک سینکڑوں دیہات زیر آب آ چکے ہیں، جب کہ بوسن بند پر بھی پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
فیصل آباد، لاہور اور ملتان جانے والی جی ٹی روڈ کئی مقامات پر ٹوٹ چکی ہے اور ٹریفک مکمل طور پر بند ہے۔ جھوک عاربی کے اسکول میں پانی داخل ہو چکا ہے، جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
دریائے ستلج پر ہری کے اور فیروزپور کے مقامات پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ متاثرہ اضلاع میں قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر، پاکپتن، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ شامل ہیں۔ سیلابی ریلے کے باعث ہزاروں بستیاں ڈوب چکی ہیں، فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور رابطہ سڑکیں زیر آب آ گئی ہیں۔
تاندلیانوالہ سے گزر کر سیلابی ریلا اب کمالیہ میں داخل ہو چکا ہے، جہاں درجنوں دیہات، فصلیں اور سڑکیں زیر آب ہیں۔ ضلع چنیوٹ میں سیلاب سے 141 دیہات اور 2 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
سندھ میں سکھر، کوٹری اور گڈو بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، لیکن کچے کے علاقے کے رہائشی اب بھی گھروں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پولیو اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کا بھی خدشہ بڑھ گیا ہے۔
دریائے چناب کا ریلا سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ سے گزرتے ہوئے جھنگ میں داخل ہو چکا ہے، جہاں تقریباً 200 دیہات زیر آب آ گئے ہیں اور 2 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ملتان میں دریائے چناب کا ایک اور بڑا ریلا آج رات گزرنے کا امکان ہے۔ شہر کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا روڈ پر ڈائنامائٹ نصب کر دیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر شگاف ڈالا جا سکے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تربیلا ڈیم 100 فیصد اور منگلا ڈیم 83 فیصد بھر چکے ہیں۔ تربیلا کا لیول 1549.78 فٹ اور منگلا کا 1226.50 فٹ ہے۔ راول ڈیم میں پانی کی سطح 1751.70 فٹ پر پہنچنے کے بعد اس کے سپل ویز بھی کھول دیے گئے ہیں۔