(جنید ریاض) لاہور سمیت صوبہ بھر کے سرکاری ونجی سکولوں میں کورونا کیسز کی تعداد بڑھنے لگی، دو سے زائد کیسز پر سکول کو بند کرنے کے صوبائی وزیر کے واضح احکامات کے باوجود کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے جس کے باعث سکولوں میں اساتذہ وطلباء میں کورونا کے اثرات بڑھنے لگے۔
صوبہ بھر کے سکولوں میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی تعداد چھپائی جانے لگی۔ لاہور میں گورنمنٹ این ڈی اسلامیہ ہائی سکول اچھرہ، کریسنٹ ماڈل، ایچی سن کالج ، گورنمنٹ ایف ڈی ماڈل سکول،گورنمنٹ پرائمری سکول جنرل ہسپتال اور گورنمنٹ گرلزہائی سکول نیپئر روڈ میں کورونا کیسز سامنے آنے کے باوجود سکولوں کو نہ تو بند کیا گیا اور نہ ہی ان سکولوں میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کروایا جارہا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ سکولوں سے کورونا رپورٹ مثبت آنے کے باوجود متعلقہ سکولوں کو بند نہ کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔
پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت علی کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز سامنے آنے پر سکول کو کم ازکم پندرہ روز کیلئے لازمی بند کردینا چاہئیے تاکہ بچوں کو وباء سے بچایا جاسکے۔ صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کورونا کیسز زائد ہونے کے باوجود سکول کھلے رکھنے پر بضد ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ سکولوں میں مرحلہ وار کورونا ٹیسٹ کیے جارہے ہیں، ایک لاکھ سے زائد ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے صرف دو سو مثبت آئے ہیں، تاہم سکولز کو بند کرنے کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔
کورونا کے باعث سکول بند کرنے پر صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ مارکیٹس کی نسبت سکولوں میں کورونا کی تعداد بہت کم ہے، اس لئے سکولوں کو بند کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
کورونا کی دوسری لہر سے جہاں عام شہری متاثر ہو رہے ہیں وہیں سکولوں میں بھی طلبا اور اساتذہ کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔ وزیرتعلیم بضد ہیں کہ سکول بند نہیں کرنے جبکہ والدین میں خوف پایا جا رہا ہے۔ جن سکولوں میں دو سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں، حکومت کو اپنی پالیسی پرعمل کرتے ہوئے انہیں بند کرنا چاہیے تاکہ دیگر طلبہ کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App