ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مختار انصاری کی جیل میں موت؛ بھارتی سپریم کورٹ نے تحقیقات کی درخواست واپس کر دی

 مختار انصاری کی جیل میں موت؛ بھارتی سپریم کورٹ نے تحقیقات کی درخواست واپس کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  بھارت کی سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے  مسلمان سیاستدان مختار انصاری کی موت کی تحقیقات کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔
اندیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق انڈین سپریم کورٹ کے  جسٹس ایم ایم سندریش اور راجیش بندل کے بنچ نے درخواست گزار مختار انصاری کے بیٹے عمر انصاری سے کہا کہ وہ الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔

عمر انصاری نے اصل درخواست اس وقت داخل کی تھی جب ان کے والد زندہ تھے اور جیل میں تھے، ۔ اصل درخواست میں عمر انصاری نے انڈین سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں  اتر پردیش سے باہر جیل میں منتقل کیا جائے۔ اس درخواست پر سپریم کورٹ نے کوئی کارروائی نہین کی تھی۔ س دوران جیل میں  مختار انصاری کی زہر خورانی سے موت ہو گئی۔ انہیں مردہ حالت میں 28 مارچ 2024 کو اتر پردیش کے بندہ میڈیکل کالج میں  لے جایا گیا۔ ہسپتال کے حکام نے لکھ دیا  کہ مختار انصاری  کی موت حرکت قلب بند ہونے سے ہوئی۔

مختار انصاری کی موت کے بعد، ان کے بیٹے نے اپنی درخواست میں ترمیم کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کی موت کی وجہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے۔ عمر انصاری نے الزام لگایا کہ ان کے والد کو زہر دیا گیا تھا اور علاج سے انکار کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔

سپریم کورٹ ن کے دو رکنی بنچ نے بدھ کو درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اس نے پہلے آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت عمر انصاری کی درخواست صرف اس لیے قبول کی تھی کیونکہ اس نے ایک جیل سے دوسری جیل منتقلی کا مطالبہ کیا تھا۔

آرٹیکل 32 شہریوں کو اپنے بنیادی حقوق کے فوری تحفظ کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

سابق رکن لوک سبھا مختار انصاری کے خلاف کل 65 مقدمات تھے اور وہ 2005 سے جیل میں تھے۔ انہوں نے خود گرفترای دی تھی۔ کیونکہ انہیں اس وقت پولیس سے جان کو خطرہ تھا۔ اس گرفتاری کے بعد سے  وہ جیل مین رہے ان کا بیتا سیاست میں رہا، اس سارے عرصہ کے دوران مختار انصاری کے مخالف بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ ان کے پیچھے پڑے رہے۔ جب ان کے بیتے کو جیل مین انہین مار دینے کی سازش کا علم ہوا تو وہ درخواست لے کر ہر جگہ گئے لیکن ہر جگہ سے انہین ٹال دیا گیا یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی ان کی درخواست سماعت کے لئے لے تو لی لیکن مختار انصاری کو اتر پردیش کی جیل سے کہیں اور منتقل نہیں کروایا۔ اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے  وزیر اعلی  سے ہی مختار انصاری کو اصل خطرہ تھا۔

گزشتہ سال 14 مارچ کو انہیں 34 سالہ غازی پور فرضی اسلحہ لائسنس کیس میں ایم پی اور ایم ایل ایز کی خصوصی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ 18 ماہ کے دوران یہ ان کی ساتویں سزا تھی۔

اپنی موت سے ایک ہفتہ قبل، مختار انصاری نے بارہ بنکی ضلع کی ایک عدالت کو بتایا تھا کہ جیل کے اندر مبینہ طور پر زہر ملا ہوا کھانا پیش کرنے کے بعد ان کی صحت بگڑ گئی تھی۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ انہیں  40 دن پہلے بھی زہر دیا گیا تھا۔