ویب ڈیسک : نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کی صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے، پاکستان علاقائی ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ حالیہ صورتحال انتہائی نازک ہے، پاکستان اپنی تمام سفارتی کوششیں بروئے کار لا رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا، اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان کی صورتحال پر دوست ملکوں کو اعتماد میں لینا چاہتے تھے، افغانستان سے صرف ایک مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ پرامن ہمسائیگی کے خواہاں ہیں۔ گزشتہ سال افغانستان کے تین دورے کیے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے دورے کے دوران معیشت، تجارت اور دوسرے اہم امور پر تفصیلی بات ہوئی، دورے کے دوران ریل منصوبے کے ذریعے روابط کے فروغ پر بات ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس افغان سرزمین سے دہشت گردی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ قطر نے مذاکرات کی درخواست کی، اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ استنبول مذاکرات کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ آپریشن غضب للحق میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد عناصر کے خلاف اقدامات کیے، ہم نے کامیابی سے دہشت گردوں کے ٹھکانےا ور کیمپ تباہ کیے۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں افغان سرزمین سے سنگین خلاف ورزی ہوئی۔ چین، امریکا اور برادر ممالک کے ساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں۔