ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کا تنازع شدت اختیار کر گیا

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کا تنازع شدت اختیار کر گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے نتائج کا تنازع شدت اختیار کرگیا ہے، جس کے باعث وکلاء برادری میں کشیدگی برقرار ہے۔

الیکشن نتائج کے معاملے پر اینڈپنڈنٹ گروپ کا اہم اجلاس پاکستان بار کونسل کے سب آفس میں منعقد ہوا، جس میں سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن و ممتاز وکیل رہنما احسن بھون نے خصوصی شرکت کی۔اجلاس میں اظہار  خیال کرتے ہوئے ہوئے وکیل رہنماء احسن بھون نے صدارتی نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک انتخابی نظام کا فرانزک آڈٹ نہیں کرایا جاتا، صدارتی نتیجہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب بار کونسل کی جانب سے صدر کے عہدے کا نتیجہ معطل کیا جا چکا ہے، لہٰذا کونسل سے گزارش کی جائے گی کہ وہ عبوری صدر نامزد کرے تاکہ بار کے انتظامی معاملات چلائے جا سکیں۔ 

احسن بھون کا  مزید کہنا تھا کہ “یہ کسی کے باپ کی میراث نہیں،  کئی سالوں سے  مشینوں کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ بار کے الیکشن میں ووٹ چوری کیے گئے، اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔”انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ دس برس سے ایک مخصوص گروپ انتخابات میں دھاندلی کرتا رہا ہے، تاہم بار کی روایات کے احترام میں نتائج تسلیم کیے جاتے رہے۔ ان کے مطابق اس بار بھی الیکشن کے دوران ضابطگی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ جب جسٹس منظور احمد ملک بطور وکیل چیئرمین الیکشن بورڈ رہے تو کسی نے اعتراض نہیں کیا، مگر بائیو میٹرک سسٹم کے نفاذ کے بعد جانبداری کے الزامات سامنے آئے۔وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی نے کہا کہ دس سال سے جاری مبینہ بے ضابطگیوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلاء پروفیشنل لوگ ہیں، لڑائی جھگڑے کے قائل نہیں، مگر شفافیت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ممبر پاکستان بار کونسل چوہدری طاہر نصر اللہ وڑائچ نے الزام عائد کیا کہ پولنگ کے دوران مخالف گروپ نے بے ضابطگیاں کیں اور شام پانچ بجے سے قبل نتائج کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فرانزک مکمل ہونے تک صدر اور کابینہ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں اینڈپنڈنٹ گروپ کے صدارتی امیدوار راجہ عامر خان، ممبر پاکستان بار کونسل ثاقب اکرم گوندل، سیکرٹری سپریم کورٹ بار زاہد اسلم اعوان، صدر ن لائرز فورم رفاقت ڈوگر اور دیگر سینئر وکلاء کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

اینڈپنڈنٹ گروپ کے مطابق راجہ عامر خان کی درخواست پر پنجاب بار کونسل صدارتی نتیجہ معطل کرچکی ہے اور جب تک حتمی فیصلہ نہیں آتا، بابر مرتضیٰ خان کو بطور صدر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔اجلاس کے بعد لاہور ہائیکورٹ بار کے کیانی ہال میں دونوں متحارب گروپوں کے کارکنوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی، جس سے ماحول مزید کشیدہ ہوگیا, دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ بار کے نومنتخب صدر بابر مرتضی خان  نے بار آفس میں اپنے عہدے کا چارج لے لیا اور وکلاء سے مبارکباد موصول کرتے رہے.

  اس موقع پر ممبر پاکستان بار شفقت محمود چوہان ، اشتیاق اے خان ، مقصودِ بٹر سمیت پروفیشنل گروپ کے دیگر رہنماؤں اور وکلاء نے نومنتخب صدر کو مبارکبادیں دیں اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ، لاہور ہائیکورٹ بار کے نتائج  تاحال تنازع کا شکار ہیں۔ وکلاء برادری کی نظریں اب ممکنہ فرانزک آڈٹ اور پنجاب بار کونسل کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں۔