ویب ڈیسک : خود تو اداکار سعود سے شادی کرتے وقت والدین کی ایک نہ سنی اور اب خود کی عمر ڈھلنے لگی تو جویریہ سعود محض اپنے آرتھوڈوکس خیالات پر مبنی کم پاپولر ڈرامہ کو پروموٹ کرنے کے لئے "ماؤں کی مشیر" بن کر انہیں مشورے دینے لگی کہ بیٹیوں کی شادی"وقت پر" کریں، "عمر نکل گئی" تو "قصوروار ماں ہو گی"۔ پاکستانی معاشرہ کو یوں تو ہیپوکریسی کا دلدل سمجھا جاتا ہے لیکن اداکاری کے پیشے سے وابستہ عورتوں کی اپنی زندگی اپنی مرضی سے جی بھر کر ہنڈانے کے بعد لڑکیوں اور عورتوں کو دو صدیوں پہلے والی نصیحتیں کرنا از حد عجیب ہے۔ جویریہ کی والدہ نے ان کے لئے شوہر تلاش کرنے کی زحمت نہین دی تھی لیکن وہ ماؤں کو پٹی پڑھا رہی ہین کہ بچیوں کی چھوٹی عمر مین ہی ان کے لئے رشتے ڈھونڈنے کے لئے گھر سے نکلیں، لوگوں سے ملیں جلیں۔
اب جب کہ پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کی کئی نسلوں کی جدوجہد، لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی شرح میں بہتری کے ساتھ مل کر لڑکیوں کو اپنی زندگی کے فیصلے خاص طور سے شادی جیسا اہم ترین فیصلہ خود سوچ سمجھ کر اور دیکھ بھال کر کرنے کی پوزیشن میں لا چکی ہے، تو جویریہ بضد ہیں کہ لڑکیوں کی شادی ماؤں کو کرنا چاہئے اور وہ بھی "وقت پر" کرنا چاہئے۔
عمومی مشاہدہ ہے کہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے، جب وہ اعلیٰ تعلیم کے ایرینا میں داخل ہوتے ہیں تو زندگی کے کئی سال جو چار سے آٹح سال تک ہو سکتے ہیں، انہیں صرف تعلیم پر ہی توجہ دینا ہوتا ہے۔ اس دوران وہ شادی تو کیا کوئی ریلیشن شپ بھی مشکل سے ہی افوارڈ کر سکتے ہیں۔ تعلیم کے یہ سال لڑکیوں اور لڑکوں کو کیرئیر میں بہتر سطح پر شروعات کرنے کے لئے بنیاد مہیا کرتے ہیں اور کیرئیر کا آغاز جتنا شاندار ہو اتنا ہی انہین زندگی مین تمام دوسری کامیابیاں بھی ملتی ہیں جن میں سے ایک "شادی" ہے۔
لڑکیوں کی اعلی تعلیم کے بعد اچھا کیرئیر آغاز ہوتا ہے تو ان کی"شادی کی عمر" دو صدیاں پہلے والے تصورات کے ساتھ طے کرنا محض بچگانہ حرکت ہے۔ بایولوجیکلی لڑکیاں شادی کا بوجھ اٹھانے کے لئے کب قابل ہوتی ہیں یہ ہر لڑکی کی انفرادی صحت سے وابستہ معاملہ ہے جسے کسی نام نہاد فارمولا کی بنائی ہوئی ریڈ لائنز کے ساتھ طے کرنا جہالت کے سوا کچھ نہہیں لیکن ہمارے ہاں یہ جہالت ان لوگوں کی طرف سے آتی ہے جنہیں ہمارے شو بز میں کسی وقت میں وقتی سٹارڈم ملی رہی اور اب نوجوان لڑکے اور لرکیاں انہیں جانتے تک نہیں۔
اداکارہ جویریہ نے ماؤں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹیوں کی شادی وقت پر کریں عمر نکل گئی تو قصور وار آپ ہوں گی،
اداکارہ جویریہ سعود آج کل ایک نجی ٹی وی کے ڈرامہ بجو میں مسرت (بجو) کے کردار میں دکھائی دے رہی ہیں، یہ کردار ایک ایسی لڑکی کا ہے جس کی" شادی کی عمر نکل رہی ہے" جس کے باعث اس کی طبیعت میں چڑچڑاہٹ اور بدمزاجی بڑھتی جارہی ہے۔ڈرامہ دو صدیاں پہلے والی کسی لوئرمڈل کلاس فیملی کے حالات اور واقعات کی عکاسی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے جس میں انفرادیت اور دل چسپی پیدا کرنے کے لئے پاکستان میں آئسولیشن مین رہنے والی ایک ثقافتی کمیونٹی سے بھی کردار لیے گئے ہیں۔
لڑکیوں اور سارے ویورز پر آرتھو ڈوکس تصورات کو مسلط کرنے والے ڈرامہ کی تحریر جویریہ سعود نے لکھی ہے جبکہ ڈرامے کے ہدایت کار مظہر معین ہیں۔
اداکارہ نے ڈرامہ سیریل بجو کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بڑھتی عمر اور شادی نہ ہونے کے سبب کنواری رہ جانے والی خواتین کی نام نہاد مشکلات پر روشنی ڈالی ہے۔ جویریہ سعود نے ماؤں کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کیا اور کسی ماں کو صفائی کا موقع دیئے بغیر اپنا فیصلہ سنا ڈالا، ’اگر عمر نکلنے کی وجہ سے کوئی بھی بیٹی کنواری رہ جاتی ہے جس کی شادی نہیں ہو پارہی تو اس میں قصوروار ماں بھی ہے‘۔
اداکارہ جویریہ سعود نے خود" شادی کی عمر " نکلنے سے پہلے ہی اپنے قریب آنے والے اداکار سعود کے ساتھ شادی کر لی تھی اور شاید اپنی حد تک ان کا یہ فیصلہ صحیح ہی ہو کیونکہ جویریہ کو شو بز مین کوئی خاص کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ انہوں نے سعود کو غنیمت جانا اور اسے لے کر شو بز سے الگ ہو گئیں۔ بعد میں کئی سال بعد ان کی انٹرٹینمنٹ ڈراموں میں واپسی ہوئی ہے۔
ماں سے زیادہ سگی ماں بنتے ہوئے جویریہ نے کہا کہ بیٹیوں کی شادی کیلئے ماؤں کو ہاتھ پاؤں مارنے چاہئیں۔’میں نے دیکھا ہے کہ بہت سی مائیں لوگوں سے زیادہ ملنا جلنا پسند نہیں کرتیں، وہ کہتی ہیں کہ جب اللہ نے چاہا ہوجائے گا، بھئی ایسے کیسے ہوجائے گا؟ کھانا بھی تو ہاتھ سے نوالہ بنا کر منہ میں ڈالتے ہیں تو میں تمام ماؤں کو مشورہ دوں گی کہ گھروں سے نکلیں، لوگوں سے ملیں جلیں اور کم عمری میں ہی بیٹیوں کیلئے رشتے تلاش کرنا شروع کردیں‘۔
اس سوال پر کہ ڈرامے کی کہانی سے آپ نے خود کو کتنا قریب محسوس کیا ہے؟جویریہ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ کہانی میری اپنی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ ہم سب نے اس معاشرے میں جہاں ہم رہتے ہیں بدقسمتی سے ہر گھر میں ایک ایسی بیٹی بیٹھی دیکھی ہے جس کی شادی نہیں ہوئی اور جب وہ اپنے ارد گرد دیکھتی ہے کہ بھابھیوں بہنوں کو سسرال کا سکھ مل رہا ہے، ان کی زندگی آگے بڑھ رہی ہے تو وہ اسے برداشت نہیں کر پاتی جس کی وجہ سے اس کی زبان میں تلخی اور کڑواہٹ بڑھ جاتی ہے۔