ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اہم ملک کا یوکرین کی حمایت کا اعلان، قرض کے معاہدے پر دستخط

 اہم ملک کا یوکرین کی حمایت کا اعلان، قرض کے معاہدے پر دستخط
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی جھڑپ نے یورپی مؤقف کو مزیدمستحکم کر دیا ہے کہ جنگ کے خاتمے تک پہنچنے کے لیے سکیورٹی اقدامات کو مذاکرات کا حصہ ہونا چاہیے۔

تازہ اطلاعات کےمطابق گزشتہ روز  یوکرینی صدر لندن پہنچے جہاں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کو گرمجوشی سے گلے لگا کر خوش آمدید کہا، زیلنسکی کی واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ اور صدر کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد لندن پہنچنے پر ان کا استقبال کیا گیا۔

دونوں ممالک نے کیئف کی دفاعی صلاحیتوں کی حمایت کے لیے2.26 ارب یورو کے قرض کے معاہدے پر بھی دستخط کیے,دونوں ممالک کے وزرائے خزانہ ریچل ریوز اور سرگئی مارچینکو نے ایک تقریب میں قرض کے معاہدے پر دستخط کیے،جبکہ قرض کی ادائیگی اضافی منجمد روسی خودمختار اثاثوں سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 زیلنسکی یورپی رہنماؤں کے سربراہی اجلاس سے قبل اسٹارمر کے ساتھ ڈاؤننگ اسٹریٹ آفس میں بات چیت کے لیے پہنچے,زیلنسکی نے کہا کہ اسٹارمر کے ساتھ ملاقات اہم اور دوستانہ تھی, انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ برطانوی قرض یوکرین کے لیے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کیا جائے گا,ہم نے برطانوی وزیر اعظم سے قابل اعتماد سکیورٹی ضمانتوں پر بات کی۔

 اس موقعہ پر سٹارمر نے زیلنسکی کو بتایاکہ "مجھے امید ہے کہ آپ نے سڑکوں پر آپ کے آنے پر خوشی کے جذبات کا اندازہ لگایا ہوگا۔ ان جذبات سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی عوام آپ کے ساتھ ہیں کہ وہ آپ کی کتنی حمایت کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کے ہمارے مکمل عزم اعلان ہے"۔

برطانوی وزیر اعظم نے زیلنسکی کو یاد دلایا کہ انہیں برطانیہ بھر میں مکمل حمایت حاصل ہے۔ہم آپ کے ساتھ اور یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں، چاہے اس میں زیادہ وقت لگے"۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین کے صدر زیلنسکی اتوار کو برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔ آج ان کی ملاقات جو مشرقی انگلینڈ میں بادشاہ کی سینڈرنگھم اسٹیٹ میں ہوگی۔