نیب کا شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے انکی رہائشگاہ پر چھاپہ


( سٹی 42) قومی احتساب بیورو میں شہبازشریف کی پیشی کا معاملہ، نیب کی ٹیم کا شہباز شریف کی رہشگاہ پر چھاپہ، نیب ٹیم شہبازشریف کو تلاش کرنے میں ناکام رہی، نیب بغیر گرفتاری ناکام واپس لوٹ گئی۔

آمدن سےزائد اثاثہ جات کیس اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں شہبازشریف کو نیب نے آج طلب کیا تھا تاہم قائد حزب اختلاف کی جانب سے جواب جمع کروایا گیا۔ جسے غیر تسلی بخش قراردیتے ہوئے نیب کی ٹیم پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ شہبازشریف کی رہشگاہ پہنچ گئی۔

وارنٹ گرفتاری دکھانے کے بعد نیب ٹیم گھر کےاندرتقریبا ایک گھنٹہ سے زائد وقت ٹھہری رہی تاہم واپس ناکام لوٹ گئی۔

پولیس کی بھاری نفری نے گلی کے دونوں اطراف کو بند کردیا اور شہبازشریف کی رہائشگاہ پر جانے کی کسی کواجازت نہیں تھی۔

نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں تحقیقات کے سلسلے میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو دن بارہ بجے طلب کیا تھا تاہم کرونا وائرس کے باعث وہ پیش نہ ہوئے اور تحریری جواب جمع کرایا جس میں کہا گیا کہ کورونا وائرس اس وقت اپنے عروج پر ہے۔

شہباز شریف کی جانب نیب کو خط کے ذریعے آگاہ کیا گیا تھا کہ خبروں سے پتہ چلا ہے کہ نیب کے کچھ افسران بھی کرونا کا شکار ہوچکے ہیں۔

انہوں نے اپنے جواب میں مزید کہا ہے کہ انکی عمر 69 سال ہے اور کینسر کا مریض ہوں اور قوت مدافعت بھی کم ہے لہذا نیب کی تحقیقاتی ٹیم مجھ سے سکائپ کے ذریعے سوالات کر سکتی ہے۔

نیب ذرائع کی جانب سے بتایا گیا کہ شہباز شریف بہانے بنا رہے ہیں انکی گرفتاری ضروری ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، تاکہ میاں شہباز شریف کو گرفتار کیا جا سکے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف پر آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ الزامات پر نیب انکوائری کا معاملہ، نیب طلبی کے روز میاں شہباز شریف کی لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست سماعت کے لیے مقرر نہ ہوسکی۔

نیب لاہور نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ انکوائری میں دو جون کوطلب کررکھا تھا۔ میاں شہباز شریف نے نیب کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر یکم جون کو ہی لاہور ہائیکورٹ میں عبوری درخواست ضمانت دائر کردی۔

دوجون کو کیس سماعت کے لیے مقرر کرا کر ضمانت قبل از گرفتاری کیس میں عبوری ریلیف حاصل کیا جاسکے، لیکن کوشش کے باوجود میاں شہباز شریف کے وکلاء عبوری درخواست ضمانت دو جون کو سماعت کے لیے مقرر نہ کراسکے۔

میاں شہبازشریف نے درخواست ضمانت میں موقف اختیار کرکھا ہے کہ نیب نے بدنیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے۔ موجودہ حکومت کے سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کر رکھی ہے۔

2018 میں بھی اسی کیس میں گرفتارکیا گیا کیا تھا، دوران حراست نیب کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ نیب نے اختیارات کے ناجائزاستعمال کا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا۔ منی لانڈرنگ کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرنے کی استدعا کی گئی۔

میاں شہباز شریف کی درخواست ضمانت سماعت کے لیے جسٹس محمد طارق عباسی اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل دو رکنی بنچ کے روبرو تین جون کو ہوگی۔