ایک حکومت اور 38 ترجمان

ایک حکومت اور 38 ترجمان

(قیصر کھوکھر) پنجاب حکومت آج کل بوکھلاہٹ کا شکار دکھائی دیتی ہے، اس بوکھلاہٹ کا اس سے بڑا کوئی ثبوت نہیں کہ حکومت نے صوبہ پنجاب میں 38 ترجمان مقرر کر دیئے ہیں جن میں وزراء، ارکان اسمبلی اور پی ٹی آئی ورکرز شامل ہیں۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو حکومت چلانا مشکل پڑ رہا ہے اور اب ہر محکمے اور ہر ادارے کا الگ الگ ترجمان مقررکردیا گیا ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ عوام نے ابھی تک سردار عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ کے طور پر قبول ہی نہیں کیااور پنجاب حکومت کا امیج عوام کی نظر میں دھندلا ہے جسے بہتر کرنے کےلئے ترجمانوں کی ایک فوج میدان میں اتاری گئی ہے , وزراءپہلے ہی اپنے اپنے محکمہ کے ترجمان ہوتے ہیں۔

 ان ترجمان کے علاوہ سیکرٹری انفارمیشن، ڈی جی پی آر اور محکموں کے پی آر او الگ سے اپنے اپنے محکموں کے ترجمان ہیں۔ اس طرح پنجاب میں وزراءکی تعداد کم اور ترجمانوں کی زیادہ ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم نے اسلام آباد میں میڈیا کی ایک ٹیم رکھی تھی جو ناشتہ کی میز پر وزیر اعظم کو بیانات دینے کے حوالے سے بریف کرتی تھی اوربالآخر جس احتساب کا نعرہ بار بار وزیر اعظم لگاتے ہیں اسی نیب کے سربراہ کے خلاف وزیر اعظم کی ٹیم نے مبینہ طور پر ایک نجی ٹی وی چینل پرایک ویڈیو جاری کر دی جس سے حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب پنجاب حکومت نے میدان سیاست میں 38ترجمانوں کی ایک فوج اُتاردی ہے تاکہ حکومت کی ساکھ بہتر کی جا سکے۔

 سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ایک کامیاب میڈیا ٹیم تھی جس سے ان کے انفراسٹرکچر کی سکیموں سے میاں نواز شریف کے عوام میں ووٹ بینک میں ایک اضافہ ہوا ،حالانکہ نواز شریف نے ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹر کو کم لفٹ کرائی تھی لیکن پھر بھی ان کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا اور ان کا عوام میں ایک اچھا امیج بن گیا، لیکن ابھی تک عمران خان اور سردار عثمان بزدار ترقیاتی کاموں اور عوامی فلاحی سکیموں کی وجہ سے ابھی تک ایسا کوئی بھی امیج عوام میں پیدا نہیں کر سکے ہیں حالانکہ عمران خان کی حکومت اس بار انفراسٹرکچر کی بجائے ہیلتھ اور ایجوکیشن کو ترجیح دے رہی ہے لیکن وفاق میں عمران خان اور پنجاب میں عثمان بزدار دن بہ دن اپنی اپنی ساکھ کھو رہے ہیں۔

ابھی حالیہ شمالی وزیر ستان کے ایشو پر حکومت اور خاص طور پر عمران خان کی مکمل خاموشی نے ایک نیا ایشو پیدا کر دیا ہے حالانکہ جمہوری ملکوں میں جہاںاداروں اور عوام کا تصادم ہوتا ہے تو اسے حل کرنے کیلئے سیاسی قیادت سامنے آتی ہے اور عوام کو بھی ٹھنڈا کرتی ہے اور فوج کا مورال بھی بلند رکھا جاتا ہے، تاکہ ادارے بھی مضبوط ہوں اور ان کا عوام میں امیج بھی برقرار رکھا جائے، لیکن حکومت کا کوئی ترجمان یا وزیر یا وزیر اعظم کی خاموشی سے قبائلی علاقوں میںمسائل پیدا ہونگے،کیونکہ افغانستان کی این ڈی این ایس او ربھارت کی خفیہ ایجنسی ” را“ قبائلی علاقوں میں ہمارے ملک کے خلاف مسلسل بر سرپیکار ہیں۔

 اگر پنجاب کی بات کی جائے کہ آج ایک عام آدمی مہنگائی، بجلی، گیس، ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے ہاتھوں پس رہا ہے اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ وزراءاور اراکان اسمبلی کو تو ترجمان مقرر کرنا سمجھ میں آتا ہے لیکن ساتھ ساتھ چند پی ٹی آئی ورکرز کو بھی ترجمان مقرر کر دیا گیا ہے کیونکہ ان ترجمانوں کی کوئی تنخواہ اور دیگر مراعات مقرر نہیں کی گئی ہیں۔

اس لئے خدشہ ہے کہ کئی ایک اس میں سے محکموں سے پیسے کمانے کے چکر میں پڑ جائیں گے اور یہ ترجمان حکومت کی ترجمانی کی آڑ میں محکموں سے پیسے پکڑ کر عوام کے کام کرانے شروع کر دیں گے کیونکہ انتظامیہ اورافسر شاہی کو بتایا گیا ہے کہ یہ ان کے محکموں کے ترجمان ہیں، اس لئے یہ خدشہ موجود ہے۔ عمران خان کو چاہئے تھا کہ پنجاب میں اپنا ووٹ بینک پیدا کرنے اور مضبوط لیڈر شپ پیدا کرنے کےلئے ایک مضبوط وزیر اعلیٰ لاتے جس کا عوام میں ایک امیج بھی ہوتا اور وہ حکومتی اور محکمانہ امور اور سیاسی معاملات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ایک عوام کو ساتھ لے کر چلنے کی ایک سوجھ بوجھ بھی رکھتاہے لیکن ابھی تک ایسا کوئی بھی کام وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نہیں کر سکے۔ پنجاب حکومت دن بدن عوام میں اپنی ساکھ کھو رہی ہے ۔

  پنجاب حکومت کیلئے یہ بہتر ہوتا کہ وہ ترجمانوں کی ایک فوج مقرر کرنے کی بجائے کابینہ کو مکمل کرتی اور وزراءکو بااختیار بناتی اور بیورو کریسی کو وزراءکے ماتحت کرتی اور یہ کہ وزراء کو محکموں میں نچلی سطح تک رسائی دیتی اور محکموں کا امیج بہتر کرتی اور ہر محکمے کا عوام کے مسائل حل کرنے کےلئے ایک ایک فوکل پرسن مقرر کرتی، لیکن حکومت پنجاب تو وعدے کے مطابق ابھی تک جنوبی پنجاب میں منی سول سیکرٹریٹ ہی قائم نہیں کر سکی ۔

کہا جاتا ہے کہ سردار عثمان بزدار کو سمجھ ہی نہیں آرہا ہے کہ کیا کیا جائے۔ انہیں جو کوئی کہتا ہے وہ کرتے جاتے ہیں لیکن ان کے کسی بھی کام کی کوئی سمت متعین نہیں ۔ یہ ترجمان میڈیا میں بیانات کے علاوہ کیا کچھ کریں گے عوام کے مسائل تو جوں کے توں ہیں، انہیں کوئی ریلیف نہیں مل رہا ۔ رمضان بازار میں کچھ سستی اشیاءعوام کو دی گئی ہیں لیکن مہنگائی کا جن بدستور قائم و دائم ہے ۔ حکومت عوام کے مسائل کو حل کرنے میں ایک جامع پلاننگ کرے اور اداروں اور محکموں تک عوام کو اوپن ڈور پالیسی سے رسائی دے۔

عوام میں مقبول حکومت وہی ہوتی ہے جو عوام کوریلیف دے،ان کے مسائل بروقت حل کرے،ان کی داد رسی ہو، لیکن موجودہ حکومت اپنے ترجمان تومقرر کررہی ہے عوام کے مسائل حل نہیں کررہی، ترجمان مقررکرنے سے حکومت کی ساکھ بہتر نہیں ہوگی بلکہ اس کیلئے حکومت کو ڈلیوربھی کرنا ہوگا، عوام کے مسائل حل کرنا ہوں گے، مسائل حل ہوگئے تو عوام خود حکومت کی ترجمانی کا فریضہ ادا کریں گے، حکومت کو اپنے ترجمانوں کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی

قیصر کھوکھر

سینئر رپورٹر