ویب ڈیسک: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایک معروف پاکستانی فلم و ٹی وی اداکارہ کے مبینہ ٹیکس چوری کے کیس کی نشاندہی کی ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کسی قسم کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔
زیرِ گردش رپورٹس کے مطابق مذکورہ اداکارہ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تقریباً ایک کروڑ فالوورز موجود ہیں اور انہوں نے گزشتہ سال کے آغاز میں شادی کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی اس اداکارہ نے اپنی شادی کی تقریبات پر مبینہ طور پر 6 کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شادی کے بعد ایف بی آر کی جانب سے کیے گئے جائزے میں اداکارہ کی ظاہر کردہ آمدن اور ان کے طرزِ زندگی کے درمیان نمایاں فرق پایا گیا۔ ایف بی آر ریکارڈ کے مطابق اداکارہ نے تقریباً 9 سال قبل ٹیکس رجسٹریشن کروائی تھی، تاہم ان کے جمع کرائے گئے انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کی گئی آمدن شادی، بیرونِ ملک دوروں اور مختلف تقریبات پر آنے والے اخراجات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز، تصاویر اور دیگر مواد کی بنیاد پر شادی کی تقریبات کے مقامات، کیٹرنگ، ملبوسات، زیورات اور پروڈکشن کے اخراجات کا تخمینہ لگایا، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 6 کروڑ 77 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اخراجات اداکارہ کے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے گئے۔
ایف بی آر کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران اداکارہ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر آمدن کو درست طریقے سے ظاہر نہیں کیا گیا۔ اسی تناظر میں سیکشن 111 کے تحت غیر واضح آمدن یا اثاثوں کے حوالے سے نوٹس جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ تسلی بخش وضاحت نہ ملنے کی صورت میں ان رقوم کو قابلِ ٹیکس آمدن میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر جان بوجھ کر ٹیکس چوری ثابت ہوئی تو انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 192-اے کے تحت قانونی کارروائی پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ خبروں میں اداکارہ کا نام سامنے نہیں آیا، تاہم گزشتہ سال کے آغاز میں شادی کرنے والی اداکاراؤں میں ماورا حسین کا نام بھی زیرِ بحث آ رہا ہے، جن کے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز موجود ہیں۔ اس معاملے پر ایف بی آر یا متعلقہ اداکارہ کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔