علی رامے:حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے ایک جامع اور بڑے مالی پیکج کی تجویز سامنے آ گئی ہے، جس کے تحت 57 ارب روپے کی مراعات دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب نے اس حوالے سے تفصیلی تجاویز حکومت کو پیش کر دی ہیں، جن کا مقصد عوام کو سستی، صاف اور جدید سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور کار پر براہِ راست سبسڈی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ برقی بائیکس پر 20 سے 30 ہزار روپے تک رعایت، جبکہ الیکٹرک رکشوں پر 25 ہزار روپے تک سبسڈی دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اسی طرح چھوٹی الیکٹرک کار پر ایک لاکھ روپے اور بڑی برقی گاڑی پر دو لاکھ روپے تک سبسڈی تجویز کی گئی ہے۔
بسوں اور دیگر کمرشل الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چار سے پانچ لاکھ روپے تک امداد دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پرانی گاڑی کو اسکریپ کر کے اس کے بدلے نئی الیکٹرک گاڑی خریدنے پر خصوصی ریبیٹ دینے کی تجویز شامل ہے، تاکہ پرانی اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
انفراسٹرکچر کے حوالے سے شہر بھر میں 1200 لیول ون چارجنگ پوائنٹس لگانے کا ہدف مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 400 بیٹری سویپنگ اسٹیشنز اور 300 فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ چارجنگ اسٹیشنز لگانے والوں کو کیپٹل سبسڈی اور ٹیکس میں رعایت دی جائے گی، جبکہ پٹرول پمپس کو چارجنگ اسٹیشنز میں تبدیل کرنے پر پراپرٹی ٹیکس میں خصوصی چھوٹ دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
مقامی صنعت کے فروغ کے لیے ریسرچ گرانٹس، بیٹری ٹیسٹنگ لیبز کے قیام، اور بیٹری ری سائیکلنگ پلانٹس سمیت صنعتی منصوبوں پر خصوصی مراعات دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری، بلدیاتی اور پبلک ٹرانسپورٹ فلیٹس کو مرحلہ وار برقی بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایندھن کی درآمد پر انحصار کم کرنا، فضائی آلودگی میں کمی لانا اور شہریوں کو ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے نہ صرف معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ مستقبل میں صاف اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کی بنیاد بھی رکھی جا سکے گی۔