چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب کو طلب کرلیا

چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب کو طلب کرلیا

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ میں گرین پارکس پر تجاوزات اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تعمیرات کیخلاف درخواست سماعت، ڈی جی ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ عدالت کو مطمئن نہ کرسکے، چیف جسٹس محمد قاسم خان نے چیف سیکرٹری پنجاب کو طلب کرلیا۔ عدالت نے ایل ڈی اے میں ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کی فہرست بھی طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے شہری مبشر الماس کی درخواست پر سماعت کی۔ وکیل درخواستگزار نے موقف اختیار کیا کہ آٹھ دسمبر دو ہزار بیس کو عدالت نے گرین بیلٹس پر غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور اس پر حکم امتناعی بارے رپورٹ طلب کی۔ ایل ڈی اے کی جانب سے غیر واضح رپورٹ پیش کی گئی، ابھی تک زرعی زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے والے کسی ذمہ دار کا تعین نہیں کیا گیا، عرصہ دراز سے ایل ڈی اے میں افسران ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں، اراضی واگزار نہیں کرائی۔

چیف جسٹس محمد قاسم خان نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ انڈائریکٹ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران سونے کی کان سے اپنا حصہ لینے آتے ہیں جبکہ عدالت کے استفسار کے باوجود لیگل ایڈوائزر ایل ڈی اے صاحبزادہ مظفر متعلقہ دستاویزات پیش نہ کرسکے۔ چیف جسٹس نے کہا ڈی جی صاحب بتائیں کتنے ہزار گرین ایریاز پر ہاؤسنگ سوسائیٹیاں قائم ہیں، ڈی جی ایل ڈی اے نے جواب دیا کہ دوسو اکتالیس سوسائیٹیاں گرین ایریاز پر ہیں، 62 کی منظوری ہوچکی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا باسٹھ سوسائٹیوں کی منظوری کے لئے کمشنر کی منظوری سے کمیٹی نے قانونی تقاضے پورے کئے، گزشتہ دوسالوں میں گرین ایریاز میں کتنی ہاؤسنگ سوسائیٹیاں بنیں؟؟ چیف جسٹس کے استفسار پر ڈی جی ایل ڈی اے اور وکیل ایل ڈی اے خاموش رہے جبکہ وکیل درخواست گزار نے آگاہ کیا۔ چیف جسٹس نے ڈی جی ایل ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایل ڈی اے کچھ نہیں کرسکتا تو کیوں نہ سیشن جج کی سربراہی میں کمیشن بنادیں، ماسٹر پلان کا تو بیڑہ غرق کردیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لگتا ہے سب نے حصے بانٹے ہوئے ہیں موٹا حصہ آپکا ہوتا ہے، قانون اتنا کمزرور نہیں، اگر آپ لوگ ذمہ داری پوری نہیں کرسکتے تو عہدے چھوڑ دیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت چار فروری تک ملتوی کرتے ہوئے چیف سیکرٹری کو طلب کرلیا۔