طویل عرصہ بعد سوشل میڈیا پہ مولانا مودودی کے افکار اور سیاسی نظریات پہ مبنی منتخب مواد کی تشہیر دیکھ کر 1980 کی دہائی کے زمانہِ طالب علمی کی فلسفیانہ بحثیں اور اپنے عہد شباب کی اسلامی و کیمونسٹ تحریکات کے مابین برپا کشمکش کی گداز یادیں عود کر آئیں ، یہ وہی زمانہ تھا جب ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے ہونہار طلبہ اور اس عہد کے نوجوانوں کے دل و دماغ پہ ہیگل ،کارل مارکس ،ٹراٹسکی ، ماؤ اور لینن کے سوشیواقتصادی نظریات کی جدلیات اور مولانا مودودی، حسن البنا ، ڈاکٹر علی شریعتی اور سید قطب کے اُلوہی افکار کی کشاکش سایہ فگن تھی ، اُس وقت تہذیب کی جڑیں گہری اور زندگی مقصدیت سے لبریز ہوا کرتی تھی ۔
1960/70 کی دہائی میں جماعت اسلامی اور نشنل عوامی پارٹی(NAP) دائیں اور بائیں بازو کی اِسی نظریاتی سیاست کی نمائندگی کرنے والی بڑی جماعتیں تھیں لیکن وقت کی سرکش لہروں نے اِن دونوں کو معدوم کر دیا ، سرد جنگ کے اختتام نے NAP(اے این پی) کو دفن کر دیا لیکن سیاسی طور پہ متروک ہو جانے کے باوجود کھربوں کے اثاثے اور بیوروکریٹک اسٹریکچر کی وجہ سے جماعت کا وجود تاحال دیکھائی دیتا ہے تاہم جس طرح اے این پی پیپلزپارٹی کا سٹلائٹ بنکر جینا چاہتی ہے اسی طرح جماعت اسلامی نے بھی اپنی بقاء کی خاطر پی ٹی آئی کے ساتھ محو رقص رہنا سیکھا لیا ۔
امر واقعہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں مرتی اُس وقت ہیں جب وہ حالات کے جبر یا مرور ایام کی سنگینی کے باعث اپنے اساسی نظریات چھوڑ دیتی ہیں ۔ 1987میں قاضی حسین احمد کی خود طلب کردہ امارت ، دراصل جماعت اسلامی کا رخ تذکیہ نفس کی مشق خیر آمیز سے بدل کر عوامی سیاست کی جانب موڑنے کی خاطر ، ایسے نرم انقلاب کا محرک بنی ،جس نے رکنیت کے معیار کو ختم کرنے کے علاوہ اُس نظریاتی تعبیر کو بھی تبدیل کر دیا جس کے مطابق جماعت کو کسی فرد کی شخصی شہرت کا زینہ بنانے کی بجائے کارکنوں کی وفاداریوں کا محور جماعت کے نصب العین ( اللہ اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضا الہیٰ کا حصول ) کے ساتھ منسلک رکھا جاتا تھا لیکن قاضی حسین احمد ، سید منور حسن اور لیاقت بلوچ سمیت کچھ اراکین کی رائے یہ تھی کہ جمہوری معاشروں میں اسلامی نظام کے قیام کے لئے اقتدار حاصل کرنے کی خاطر جماعت کے لئے بڑے پیمانے پہ عوامی تائید لینے کے لئے روایتی سیاسی طریقے اپنانا ناگزیر ہے ، جس کے لئے استحصالی طبقات کو للکارنے کے علاوہ مقبول لیڈر کی تخلیق از بس ضروری ہو گی چنانچہ جماعت کی عنان سنبھالتے ہی قاضی حسین احمد نے خیبر سے کراچی تک ''کاروان دعوت و محبت'' کے ذریعے رابطہ عوام مہم کا آغاز کر دیا ، جس میں ''دور ہٹو جاگیردارو پاکستان ہمارا ہے، دور ہٹو سرمایا دارو پاکستان ہمارا ہے'' جیسے نعروں کی گونج میں طبقاتی کشمکش کو مہمیز دی گئی ، حالانکہ جماعت اسلامی کے دستور میں جاگیرداروں اور سرمایا داروں کے خلاف مزاحمت کی بجائے ان کے اذہان کو مسخر کرنے کا اصول طے تھا ، اس لئے قاضی صاحب کے نئے سیاسی اجتہاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جماعت کا دستور اور مولانا مودودی کا وہ لٹریچر بن گیا جو کم و بیش جماعت سے وابستہ تین نسلوں کو اپنے سحر میں لے چکا تھا ۔
چنانچہ قاضی حسین احمد نے امیرِ جماعت کو دستور میں حاصل ویٹو پاور کو استعمال کرتے ہوئے جمہور اراکین اور شوری کی اجتماعی رائے کو نظراندازکرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ مولانا مودودی کے کچھ متنازعہ افکار کی وجہ سے دیگر مسالک کے لوگ جماعت کے قریب نہیں آتے جبکہ رکنیت کے لئے رکھی گئی کڑی شرائط بھی عام شہریوں کو جماعت کا حصہ بننے سے روکتی ہیں ، اسی دلیل کے ساتھ پہلے جماعتی رکنیت کی شرائط نرم کی گئیں اور بعد میں خاموشی کے ساتھ مولانا مودودی کے لٹریچر کی تقسیم روک دی گئی ۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے جماعت اسلامی اپنے اساسی نظریات کی پٹڑی سے اترکر خالص سیاسی تحریک کی شکل میں ڈھلنے لگی ۔ 1990 کی ہنگام پرور دہائی میں جب جنرل حمید گل مرحوم کے مشورہ پہ قاضی صاحب نے نوجوانوں کی تنظیم پاسبان کے ذریعے بزور قوت انقلاب برپا کرنے کی راہیں تراشنا شروع کیں تو عین اُسی وقت پروفیسر خورشید احمد نے قومی اخبارات میں ایسے مضامین لکھے جن میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ کسی تحریک کی طبعی عمر پچاس سال سے زیادہ نہیں ہوتی چنانچہ جماعت اسلامی (1941) نے فطری عمر پوری کر لی یعنی جماعت کو اب بقائے دوام کی خاطر نظریاتی اور سیاسی ٹرانسفارمیشن سے گزرنا ہو گا ۔
تاریخی دلچسپی کے لئے یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ چنیدہ افراد کی ایک میٹنگ ، جسمیں پاسبان کے صدر محمد علی درانی ،عمران خان اور ہفت روزہ تکبیر کے ایڈیٹر صلاح الدین بھی موجود تھے،جنرل حمید گل نے کہا تھا کہ '' میری(جنرل حمید گل) دانش، عمران خان کا کرشمہ اور پاسبان کی اسٹریٹ پاور صحت مند جمہوری انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں ، عبدالستار ایدھی کو اس منصوبہ میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی شاید اسی میٹنگ میں ہوا تھا ۔ علی ہذالقیاس جماعت سے منسلک نوجوانوں کی تنظیم پاسبان کی طرف سے جماعتی وسائل پر قاضی حسین احمد کی شخصی تشہیر اور ملک بھر میں ''ظلم'' کو روکنے کی خاطر پُرتشدد مُہمات کے نتیجہ میں جب گراس روٹ لیول پر تنازعات پیدا ہونے لگے تو جماعت کے اندر سے شیدید ترین ردعمل ابھرنے کے باعث قاضی حیسن احمد کو پاسبان سے فاصلہ اختیار کرنا پڑا اور یوں محمد علی درانی ، جماعت اسلامی کے وسائل اور افرادی قوت سے استوار ہونے والی تنظیم پاسبان کو لیکر اپنا الگ سیاسی گروہ بنانے میں آزاد ہو گئے لیکن علامہ اقبال کے فلسفہ فعالیت کے خُوگر قاضی صاحب کا جنون آرام سے بیٹھنے والا کہاں تھا چنانچہ 1993 کے الیکشن میں قاضی صاحب صدر اسحاق خان کی ایما پر الکٹیبل کو پارٹی ٹکٹ دینے کی خاطر'' اسلامک فرنٹ '' بنا کر پارلیمانی قوت حاصل کرنے میں سرگرداں ہو گئے لیکن وہ اپنی اِس کوشش میں بھی بُری طرح ناکام ہوئے ،قاضی سمیت اسلامک فرنٹ ملک بھر میں قومی و صوبائی اسمبلی کی کوئی ایک نشست بھی نہ جیت سکا تاہم انکی مساعی نے پیپلزپارٹی کو دوبارہ برسراقتدار لانے کی راہ ضرور ہموار بنائی ۔ سیاسی طور پہ تباہ کن انجام سے دوچار ہونے کے بعد جماعت کے اندر سے قاضی حیسن احمد پر مستعفی ہونے کے لئے دباو بڑھا تو قاضی صاحب نے استعفٰی دینے کی بجائے قبل از وقت انتخابات کے ذریعے دوبارہ امارت حاصل کرلی ۔
جماعت اسلامی کی تاریخ کا یہ پہلا متنازعہ انتخاب تھا جسے کراچی کے عبدالرزاق نامی رکن جماعت نے لاہور کی سول عدالت میں چیلنج کر دیا ، اسی مقدمہ کے دوران یہ بھی پتہ چلا کہ جماعت کا انتخابی عمل حقیقی نہیں بلکہ دیکھاوے کی علامتی مشق ہوا کرتی ہے ۔ قصہ کوتاہ 1987 سے لیکر 2023 تک پورے 36 سال جماعت اسلامی کو مولانا مودودی کے شخصی تبحر اور لٹریچر سے دور رکھ کر عوامی جماعت بنانے کی مشق ناز کے دوران ہماری نوخیز نسلیں مولانا مودودی کی شخصیت اور علمی کام کو فراموش کر بیٹھیں ۔ اب جب بعداز خرابی بسیار جماعت کی موجودہ قیادت کو مولانا مودودی کے افکار اور لٹریچر کی ایک بار پھر ضرورت پڑی تو ارٹیفشل انٹیجنس کے اِس پیچیدہ دور کی سوشل میڈیا پہ پروان چڑھنے والی نئی نسلیں اسے قبول کرنے بلکہ پہچاننے سے ہی انکاری ہیں ۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر