سٹی42: آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2025 کے آغاز سے پہلے ہی بھارت کی تعصب اور نفرت کو سیاست کا ہتھیار بنا کر استعمال کرنے والی حکومت کے کٹھ پتلی کرکٹ بورڈ نے پاکستانی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں کے ساتھ بھارتی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں کے ہاتھ ملانے پر پابندی لگا دی۔
"نو-ہینڈ شیک" کے نام سے مشہور کرکٹ نورمز کی اس سنگین خلاف ورزی پر بھارتی کرکٹ اور سیاست کے کھلاڑی فخر کر رہے ہین اور کرکٹ سے وابستہ دنیا بھر کے فینز اور کھلاڑی شدید صدمے سے سکتے کی کیفیت میں ہیں۔ لیکن بھارت کے تعصب پرست حکمرانوں اور ان کے کٹھ پتلی کرکٹ بورڈ پر کرکٹ لوورز کی تشویش کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ پاکستان انڈیا ویمنز ٹیموں کے میچ میں ہینڈ شیک نہ ہوا تو کیا ہو گا
کہانی کا خلاصہ یہ ہے، اس کے علاوہ ہندوستانی میڈیا اس کو اور آس پاس کے مسائل کو کس طرح کور کر رہا ہے - انتباہات اور مختلف نقطہ نظر کے ساتھ۔
بھارت کے اخبار دکن ہیرالڈ کی خبر اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ "کوئی مصافحہ نہیں" تنازعہ - جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مردوں کے ایشیا کپ کی سیریز میں ایک اہم مسئلہ بن گیا تھا - اب خواتین کے کھیل میں ل بھی اس مسئلہ کے کھڑا ہو جانے کا امکان ہے۔
دکن ہیرالڈ نے لکھا کہ جب ہندوستانی خواتین کی ٹیم خواتین کے ورلڈ کپ کے دوران پاکستان سے ملے گی، تو وہ مردوں کی ٹیم کے طرز عمل کی پیروی کر سکتی ہے اور پاکستان کی ویمنز ٹیم کی کھلاڑیوں سے روایتی مصافحہ سے گریز کر سکتی ہے۔ ہرمن پریت کور گرین شرٹس کی کیپٹن فاطمہ ثنا سے نہ تو ہاتھ ملائے گی، نہ ہی ان ےک ساتھ فوٹو شوٹ کروائے گی۔
دکن ہیرالڈ نے بی سی سی آئی کے ایک سینئیر عہدیدار کی نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے ساتھ گفتگو کو کوٹ کرتے ہوئے لکھا کہ مطابق بھارت کا کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی اپنی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔ آئی سی سی ویمنز ورلڈ کے میں پاکستان کی ویمنز ٹیم کے ساتھ میچ میں نہ تو ابتدا میں ہاتھ ملائے جائیں گے، نہ میچ کے اختتام پر ہاتھ ملائے جائیں گے۔ میچ ریفری کے ساتھ روایتی فوٹو شوٹ بھی نہیں کیا جائے گا۔
یہ "نان ہینڈ شیک" کو ایک ایسے اشارے کے طور پر ابھرا ہے جو بھارت کے سیاسی اشارے سے بھرا ہوا ہے، نہ کہ صرف سادہ کھیلوں سے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے آئی سی سی ایونٹ میں بھی، اس علامتی مسئلے سے گریز نہیں کیا جا سکتا۔
دکن ہیرالڈ نے اپنی رپورٹ میں یہ سفید جھوٹ بھی شامل کیا کہ ایشیا کپ کے فائنل کے بعد ایشیئن کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی نے بھارت کے کیپٹن کو ٹافی دینے سے انکار کر دیا تھا حالانکہ اس تقریب کی لائیو کوریج میں واضح دیکھا گیا کہ محسن نقوی انتظار کرتے رہے اور اپنی حکومت کے حکم پر بھارتی کیپٹن ٹرافی لینے کے لئے نہیں آیا۔
بھارتی کرک ٹ بورڈ کی ویمنز کرکٹ ٹیم کو ہدایات میچ سے پہلے ہی سامنے آ گئیں۔ ایشیا کپ کے پاکستان بھارت میچ کے ٹاس سے پہلے کسی کو اندازہ نہین تھا کہ بھارت کا کیپٹن ٹاس کے دوران کیا حرکت کرنے والا ہے، لیکن اب سب کو پتہ ہے کہ 5 اکتوبر کو ہرمن پریت کور فاطمہ ثنا کے ساتھ کیا حرکت کریں گی۔ اب کرکٹ کے روایتی پروٹوکول (مصافحہ، باہمی احترام) کے مستقبل پر بحث شروع ہو گئی ہے۔جسے کچھ لوگ جان بوجھ کر دشمنی یا بھارتی حکومت کے سیاسی پوزیشن میں اضافے ک کی کوشش کے طور پر دیکھ رہےہیں۔
"نو ہینڈ شیک" کی کہانی کو اس حوالے سے زیادہ قریب سے دیکھا جا رہا ہےکہ آیا یہ خواتین کی کرکٹ میں پاکستان اور بھارت کے میچوں تک ہی محدود رہے گی یا کرکٹ کا نیا معمول بن جائے گی یا کہ بھارتی بورڈ کے حکم سے کی جا رہی یہ مکروہ حرکت چیلنج ہو جائے گی۔
بھارتی میڈیا کی کوریج اور ردعمل
بھارتی میڈیا کے ایک سکیشن نے اس کہانی کو مختلف زاویوں سے اٹھایا ہے۔ ذیل میں ہندوستانی ذرائع کے اہم دھاگے اور نقطہ نظر ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو کیسے ٹریٹ کر رہے ہیں:
تھیم کلیدی نکات / حوالہ جات ماخذ / نوٹ
"نان ہینڈ شیک" کے رجحان کے تسلسل کو کئی آؤٹ لیٹس رپورٹ کر رہے ہیں کہ ہندوستان کی کرکٹر خواتین اپنی مردوں کی ٹیم کا عکس بن رہی ہیں اور وہ بھی ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان کے ساتھ مصافحہ کرنے سے انکار کر یں گی۔
ہرمن پریت کور کا اپنا بیان
ہرمن پریت کور نے کہا ہے کہ ٹیم کرکٹ پر توجہ دے رہی ہے اور میدان سے باہر کے معاملات پر توجہ نہیں دے گی۔
- ایک ہندوستانی آل راؤنڈر دیپتی شرما سے جب پوچھا گیا کہ کیا خواتین کی ٹیم مصافحہ کرنے سے انکار کرے گی، تو انہوں نے کہا: "وہ میچ بہت دور ہے … جب یہ آئے گا، ہم دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ ابھی، ہم جاری کھیلوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔"
- انڈین ایکسپریس نے ایک مضمون آج اپنی اشاعت میں شامل کیا ہے جس کا عنوان تھا "سیاسی طور پر چارج شدہ ایشیا کپ فائنل کے بعد، کوئی واضح بیان نہیں کہ آیا خواتین کے ورلڈ کپ میچ کے دوران ہندوستان اور پاکستان کی کھلاڑی مصافحہ کریں گی"۔ اس مضمون میں نوٹ کیا گیا کہ آئی سی سی ایونٹس میں مصافحہ روایتی پروٹوکول ہے - جس میں کپتان عموماً ٹاس پر ہاتھ ملاتے ہیں اور کھل کے آخر میں تمام کھلاڑی ای کدوسرےسے ہاتھ ملاتے ہیں - لیکن ٹیم انتظامیہ کی جانب سے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ آیا اس بار ایسا ہوگا یا نہیں۔
- کچھ سابق ہندوستانی کرکٹرز نے انٹرویوز میں اظہار خیال کیا ہے کہ جہاں سیاست حقیقی زندگی کا حصہ ہے، کھیل میں تحمل ہونا چاہیے۔ ایک تجربہ کار (شوبھا پنڈت) نے کہا: " پاکستانی ٹیم بھی انسان ہے … تحمل اور احترام کو برقرار رکھیں۔"
اِن سائیڈ سپورٹ InsideSport کے ایک مزید اشتعال انگیز مضمون کی سرخی ہے: "بی سی سی آئی سکریٹری نے خواتین کے ورلڈ کپ میچ سے پہلے پاکستان کو 'دشمن ملک' کہا، مصافحہ کا امکان نہیں"۔
اس مضمون سے پتہ چلتا ہے کہ بی سی سی آئی کے عہدیداروں کی یہ بیان بازی اس بات کو زیادہ یقینی بناتی ہے کہ خواتین کی ٹیم "ہاتھ نہ ملانے" کی پالیسی پر عمل کرے گی۔
بھارتی میڈیا کی بہت سی کہانیاں اس میچ (بھارت بمقابلہ پاکستان خواتین) کو نہ صرف کھیلوں کے مقابلے بلکہ سیاسی علامت کے لیے ایک ممکنہ فلیش پوائنٹ کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ کیا "سپورٹس مین شپ" کو نظر انداز کرنے کی نئی بھارتی روایت مردوں کی ایشیا کپ سیریز میں پائے جانے والے تناؤ کو برقرار رکھے گی؟ یہ سوالات بھارتی مبصرین کی طرف سے بار بار اٹھائے جا رہے ہیں۔
کھیل کو بھارت کی سیاست کے اندر معمولی فائدہ اٹھانے کے لئے کھل کے گلے پر چھری پھیر دینے والے گروہ کے اعلانیہ اور چھپے ہوئے ترجمان یہ بھونڈی دلیلد دہرا رہے ہیں کہ مصافحہ اصولوں کے تحت لازمی ہونے کی بجائے علامتی ہے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ زیادہ تناؤ والے میچوں میں، اس سے انکار کھیلوں کے نورمز پر عمل کرنے سے زیادہ ایک سیاسی بیان بن جاتا ہے۔
ابہام برقرار رکھا جا رہا ہے
ہندوستانی بورڈ BCCI کے عہدیدار نے تو پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو صاف بتا دیا کہ سیک ہینڈ اب بھی نہین ہو گا۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے ہاتھ نہ ملانے کے توہین آمیز برتاؤ کو جاری رکھنے کے بارے میں واضح طور پر عزم سامنے آنے کے بعد کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ سلجھا ہوا طرز عمل پانچ اکتوبر سے پہلے یہ لچک کی گنجائش دیتا ہے اور فوری ردعمل سے بڑھنے والی کشیدگی کا راستہ بند کرتا ہے۔
کھلاڑی اس موضوع سے دور لیکن بورڈ ہیڈ لائنز بنوا رہا
اہم ہندوستانی کھلاڑی (ہرمن پریت، دیپتی اور دیگر) اشارہ دے رہے ہیں کہ ان کی فکر کارکردگی پر ہے، سیاسی تھیٹر ان کی توجہ کا مرکز نہیں۔ تنازعات میں گھسیٹے جانے سے بچنے کے لیے یہ ایک دفاعی طرز عمل ہے۔ لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ کا طرز عمل اس کے برعکس ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ آئی سی سی کے اس باقار ایونٹ کا سری لنکا کے ساتھ شریک میزبان بھی ہے۔
انتظامی بیان بازی تاثر کو متاثر کرتی ہے
پاکستان کو "دشمن" قرار دینے والے عوامی بیانات اور میڈیا کی قیاس آرائیوں کے ساتھ، میچ کے ارد گرد کا ماحول پہلے ہی کشیدہ ہے۔ یہ ٹیموں کو روایتی کھیلوں کی بجائے زیادہ علامتی اشاروں کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
خواتین کی کرکٹ اور توقعات پر اسپاٹ لائٹ
چونکہ ویمنز ورلڈ کپ ایک شاندار عالمی ایونٹ ہے، اس لیے کسی بھی اشارے (یا اشارہ سے انکار) کو وسیع توجہ ملے گی - یہ توجہ زیادہ تر دو طرفہ سیریز یا دو طرفہ ٹورنامنٹس سے زیادہ ہو گی کئنکہ اس ایونٹ کے لئے دنیا کی بہترین ٹیمیں انڈیا اور سری لنکا آ چکی ہیں۔
کیا آئی سی سی خود اپنا تماشا بنائےگی؟ کیا باقی کرکٹ بورڈ تماشا دیکھیں گے؟
اب یہ دیکھنا ہے کہ 5 اکتوبر سے پہلے آئی سی سی اور کرکٹ کی دنیا کے انتظامات اور روایات کو لے کر چلنے والے دوسرے کرکٹ بورڈ کیا بھارتی کرکٹ بورڈ کو اپنی تعصب کے ہتھیار سے سیاست کی جنگیں لڑنے کی عادی حکومت کے اثر سے نکل کر کرکٹ کی بہتری کیلئے اچھا طرز عمل اپنانے پر قائل کرنے کے لئے مداخلت کرتے ہیں یا چیمپئینز ٹرافی اور ایشیا کپ کی طرح اب بھی خاموش رہتے ہیں۔
ٹاس پر کیا ہوتا ہے، کیا کپتان مصافحہ کریں گی؛ میچ کے اختتام پر کیا ہوتا ہے، جیت یا ہار - کیا مصافحہ ہوگا یا کوئی اعتراف ہوگا؟ یہ معاملہ اگر بڑھا تو صرف پاکستانی ٹیم کے ساتھ امتیازی سلوک کی حد تک بہرحال نہیں رہے گا۔ یہ کرکٹ کے مستقبل اور خود بھارتی کرکٹ پر گرے اثرات ڈالے گا۔
آیا آئی سی سی یا میچ آفیشلز تبصرہ کرتے ہیں یا اس طرح کے اشاروں کو نافذ کرنے یا ان کی حوصلہ شکنی کے لیے قدم رکھتے ہیں۔
شائقین، مبصرین، اور سوشل میڈیا کیسے جواب دیتے ہیں - چاہے وہ ہاتھ نہ ملانے کے موقف پر تنقید کریں یا حمایت کریں۔
بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آنے والے چار دن کرکٹ کے لئے کروشیل ہوں گے۔




