( ویب ڈیسک )پاکستان نے بھارت کے 7 طیارے گرائے ، ٹرمپ نے پھر مودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا ۔
واشنگٹن میں محکمہ جنگ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے جنگ میں بھارت کے 7 طیارے تباہ کیے۔ سات طیاروں کی تباہی تو صرف جنگ کا آغاز تھا ۔ چار دن تک جنگ چھڑی رہی۔ میں نے دونوں ممالک کو کال کی اور کہا کہ اگر یہ سب جاری رہا تو کوئی تجارت نہیں ہوگی۔ اس طرح میں نے جنگ رکوا دی۔
ٹرمپ کے مطابق اس جنگ میں لاکھوں جانیں جا سکتی تھیں لیکن انہوں نے اسے روک کر دنیا کو بڑے سانحے سے بچایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ہمارے ساتھ تھے۔ فیلڈ مارشل، جو پاکستان میں بہت اہم شخصیت ہیں، انہوں نے ایک موقع پر اپنے رفقاء کے سامنے کہا کہ اس شخص (ٹرمپ) نے لاکھوں جانیں بچا لیں کیونکہ اس نے جنگ کو بڑھنے سے روکا۔ مجھے یہ بات بہت اچھی لگی۔ میں فیلڈ مارشل کی تعریف کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنی صدارت کے دوران سات بڑی جنگیں ختم کرائیں اور اس میں سب سے بڑی جنگ بھارت اور پاکستان کی تھی، جو ایٹمی جنگ بن سکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے اتنے تنازعات ختم کیے ہیں لیکن کل ہم نے شاید سب سے بڑا معاہدہ کیا۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کا معاملہ ہے۔ تمام عرب اور مسلمان ممالک راضی ہو گئے ہیں، اسرائیل نے بھی اتفاق کر لیا ہے۔ اگر حماس مان گئی تو یہ صدیوں پرانا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اوول آفس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد شہباز شریف نے بھی ٹرمپ کو ’’امن کا علمبردار‘‘ قرار دیا اور انہیں نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے کی تجویز دی۔
شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’پاکستان ایک طاقتور پوزیشن میں ہونے کے باوجود صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ اور مضبوط قیادت کے باعث جنگ بندی پر راضی ہوا۔ ہم ان اور ان کی ٹیم کے مشکور ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یوکرین جنگ پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ یہ سب سے آسان معاملہ تھا، اگر میں صدر ہوتا تو یہ جنگ کبھی شروع ہی نہ ہوتی۔
امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ اگر غزہ امن منصوبہ کامیاب ہو گیا تو یہ ان کی آٹھویں بڑی کامیابی ہوگی، لیکن ساتھ ہی کہا کہ مجھے نوبیل انعام نہیں چاہئے، میں چاہتا ہوں کہ یہ اعزاز میرے ملک کو ملے۔