سٹی42: پڑوسی ملک بھارت کی ریاست بہار میں ریاستی الیکشن سے صرف چند روز پہلے ہندوتوا پرست وزیراعظم نریندر مودی مظفر پور گئے تو ان کی آمد سے پہلے 6 صحافیوں کو نظر بند کر دیا گیا تاکہ وہ بزعمِ خود رام جی کی سینا کے سپہ سالار سے سیدھے سوالات کر کے پبلک کے سامنے بے عزت نہ کر سکیں۔
مظفر پور میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ہوئی انتخابی ریلی سے قبل 6 صحافیوں کو نظر بند کیے جانے کی خبر پر اپوزیشن نے تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ عمل وزیر اعظم نریندر مودی اور بہار کی این ڈی اے حکومت کی گھبراہٹ ظاہر کرتا ہے۔
اس معاملے میں کانگریس کی سینئر لیڈر اور قومی ترجمان سپریا شرینیت نے آج مظفر پور میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے خاتون سیاستدان نے کہا کہ ’’کل مظفر پور سے خبر آئی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ریلی سے قبل 6 صحافیوں کو نظر بند کیا گیا۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ نریندر مودی جی آخر کیوں گھبراتے ہیں؟ جو صحافی سوال پوچھتے ہیں، حقیقت حال سامنے رکھتے ہیں، سچائی کو عوام تک لے جاتے ہیں، ان سے نریندر مودی کیوں گھبراتے ہیں؟‘‘
कल मुजफ्फरपुर से खबर आई कि प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी की रैली से पहले 6 पत्रकारों को नजरबंद किया गया।
— Congress (@INCIndia) November 1, 2025
ये सवाल उठता है कि नरेंद्र मोदी जी क्यों घबराते हैं?
जो पत्रकार सवाल पूछते हैं, असलियत दिखाते हैं, सच जनता तक ले जाते हैं, उनसे नरेंद्र मोदी क्यों घबराते हैं?
नरेंद्र मोदी… pic.twitter.com/kwGPD9TbXl
پریس کانفرنس میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے سپریا نے کہا کہ نریندر مودی اُن لوگوں کو انٹرویو دیتے ہیں جو سوال کرتے ہیں– آپ تھکتے کیوں نہیں؟ آپ کوئی ٹانک پیتے ہیں کیا؟ جو بڑے بڑے ایشوز کو چھوڑ کر یہ سوال پوچھتے ہیں–کیا آپ جیب میں بٹوا رکھتے ہیں؟ کانگریس کی خاتون لیڈر نے سوال اٹھایا کہ ’’نریندر مودی اور انتظامیہ کو کس بات کا خوف تھا؟ کیا وہ اس لیے خوفزدہ تھے کہ جو مظفر پور میں شوگر مل کے مزدور مظاہرہ کر رہے تھے، صحافی ان کی سچائی سامنے رکھ دیتے تو ماحول بدل جاتا؟ کیا جمہوریت میں سوال نہیں پوچھے جائیں گے؟ کیا انتظامیہ طے کرے گی کہ میڈیا کہاں نظر آئے گا اور کہاں نہیں؟‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’جمہوریت میں میڈیا کو چوتھا ستون کہا گیا ہے۔ جس کے ہاتھ میں اقتدار ہے، طاقت ہے، ریسورس ہے، ان سے سوال پوچھنے کا کام میڈیا کا ہے۔‘‘
بہار میں ڈگریاں بیچی جا رہی ہیں
بہار کے موجودہ حالات اور نوجوانوں کے تاریک مستقبل کا ذکر کرتے ہوئے سپریا شرینیت نے پریس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بہار میں نہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور نہ ہی ملازمتیں بن رہی ہیں۔ نوجوانوں کا مستقبل بحران میں ہے، کیونکہ ڈگریاں فروخت ہو رہی ہیں۔ بی اے کی ڈگری 70 ہزار سے ایک لاکھ روپے، نرسنگ کی ڈگری 3.5 لاکھ سے 4 لاکھ روپے، پیرامیڈیکل کی ڈگر 25 ہزار روپے، ٹیکنیشین کی ڈگری 30 ہزار روپے، بی فارما کی ڈگری 3.5 لاکھ روپے، بی ایڈ کی ڈگری 1.5 لاکھ روپے سے 2 لاکھ روپے میں بیچی جا رہی ہے۔‘‘
امتحانی پیپر لیک ہونے کا نرخ مقرر ہے
انھوں نے پیپر لیک ہونے کا بھی ریٹ کارڈ میڈیا کے سامنے شیئر کیا اور کہا کہ ’’نیٹ پی جی 70 سے 80 لاکھ روپے، نیٹ یو جی 30 سے 40 لاکھ روپے، بینک پی او 20 لاکھ روپے، ایس ایس ایس سی 20 لاکھ روپے، پولیس ایس آئی 25 لاکھ روپے، سپاہی 15 لاکھ روپے، پٹواری 15 لاکھ روپے، ٹی ای ٹی/ریٹ 10 لاکھ روپے۔‘‘ امتحان کے پیپر کی رقم پیش کرنے کے بعد سپریا کہتی ہیں ’’غریب بچوں کے کنبے یہ پیسے نہیں دے سکتے، تو وہ محنت کرتے ہیں، امتحان دیتے ہیں، لیکن پیپر مافیا ان کے مستقبل کو برباد کر دیتا ہے۔‘‘
بہار کی این ڈی اے حکومت میں بڑھتے جرائم پر فکر ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کی ترجمان نے نیتی آیوگ کی رپورٹ کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’بہار سبھی ریاستوں میں سب سے غریب ریاست ہے۔ اوسط فی کس آمدنی ملک میں اسی ریاست میں سب سے کم ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ بہار جسے ’چینی کی کٹوری‘ کہا جاتا تھا، جس کا چینی کی پروڈکشن میں 27 فیصد حصہ ہوتا تھا، وہ اب گھٹ کر 2 فیصد رہ گیا ہے۔ برسراقتدار طبقہ کو نشانہ بناتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’’70 ہزار کروڑ روپے کا حساب بہار حکومت کے پاس ہے ہی نہیں۔ امت شاہ کہتے ہیں کہ بہار میں انڈسٹری نہیں لگ سکتی، کیونکہ زمین نہیں ہے، اور اسی بہار میں ایک ہزار ایکڑ زمین ایک روپے کی قیمت پر اڈانی کو دے دی جاتی ہے۔ یہ حال این ڈی اے نے بہار کا کر دیا ہے۔‘‘