بالی ووڈ فلم 'دنگل' کی اداکارہ جنسی ہراسگی کا شکار

بالی ووڈ فلم 'دنگل' کی اداکارہ جنسی ہراسگی کا شکار

(سٹی42) بالی ووڈ میں بھی جنسی ہراسانی کے واقعات نے رونماں ہورہے ہیں جو کہ انڈسڑی کے زوال کا سبب بن رہے ہیں، خواتین اداکارؤں کے ساتھ ایسے ناخوشگوار معاملات کا ہونا فلموں سے ہٹ کر حقیقی زندگی کا حصہ سمجھا جانے لگا، بالی ووڈ کی مشہور  اداکارہ نے اس بارے خود بتایا کے ان کے ساتھ کیسا رویہ برتا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بالی ووڈ کی مشہور فلم' دنگل' جس میں شوبز کی دنیا کے جانے مانے بڑے اداکار مسٹر پرفیکشنسٹ( عامر خان) نے ایک والد کا کردار اداکیا، اس فلم سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ زائرہ وسیم اور فاطمہ ثناء شیخ ہیں، کشمیر سے تعلق رکھنے والی اداکارہ زائرہ وسیم ایک بار پھر فلمی دنیا کو خیر آباد کہہ دیا تھا،15 برس کی عمر میں فلمدنگل‘ سے اپنے کریئر کا آغاز کیا اور عمدہ اداکاری دکھانے پر انھیں بہترین معاون اداکارہ کے نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ اداکارہ  فاطمہ ثناء شیخ نے بھی اس میں اچھاکردار اداکیا اور شہرت حاصل کی۔

28 سالہ اداکارہ فاطمہ ثناء شیخ نے اہم انکشاف کرتے ہوئے سب کو چونکا دیا، ان کا کہناتھا کہ  اُنہیں تین سال کی عمر میں جنسی ہراسانی کا شکار بنایا گیا تھا۔اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ  کئی بار فلم انڈسٹری میں کام کے حصول کے لیے جنسی تعلقات قائم کرنے کی پیشکش کی گئی۔دیگر اداکاراؤں کی طرح وہ بھی جنسی ہراسانی کا شکار ہونے سے نہیں بچ سکیں۔

 انٹرویو میں ان کا مزید کہناتھا کہ  جنسی استحصال ایک دھبہ ہے جس کی وجہ سے خواتین اس بارے میں بات نہیں کرتیں، پہلے خاموشی اختیار کی جاتی تھی مگر اب دنیا بدل چکی ہے، لوگوں کو اپنے اچھے،برے بارے سب معلوم ہے،اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ناجائز تعلقات قائم نہ کرنے پر کئی بار کام واپس لیا گیا۔

واضح رہے کہ اداکارہ فاطمہ ثناءشیخ نے سال 1997 میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر اداکاری کا آغاز کیا تھا،سال 2016 میں عامر خان

کے ساتھ دنگل اور پٌھر سال 2018 میں فلم ’ٹھگز آف ہندوستان‘ میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔