ذاہد چودھری: سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے محنت کش تاحال کم از کم اجرت سے محروم ہیں، جبکہ پرائیویٹ سکیورٹی اور صفائی کے عملے کو بھی مقررہ تنخواہ نہیں مل رہی۔
ذرائع کے مطابق محکمہ صحت پنجاب کے تحت ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ٹھیکیداروں کو کم از کم اجرت کے مطابق ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، تاہم ٹھیکیدار سکیورٹی اور صفائی کے عملے کو انتہائی کم معاوضہ دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہسپتالوں میں تعینات پرائیویٹ سکیورٹی اہلکاروں کو صرف 20 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے، جبکہ صفائی پر مامور عملہ محض 15 ہزار روپے ماہوار پر کام کرنے پر مجبور ہے، جو مقررہ کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے کہیں کم ہے۔
محنت کشوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار شکایات درج کروانے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہو رہی، جبکہ صحت کے محکمے اور ہسپتالوں کی انتظامیہ اس مبینہ استحصال پر خاموش دکھائی دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹھیکیداری نظام میں شفافیت نہ ہونے کے باعث محنت کشوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، اور اس صورتحال میں فوری حکومتی مداخلت کی ضرورت ہے۔