سٹی42: یروشلم کے مضافات میں واقع ایشتاول جنگل میں بدھ کے روز بڑی برش فائر بھڑک رہی تھی، جس سے کئی کمیونٹیز کے انخلاء کی نوبت آ گئی اور سڑکیں بند ہو گئیں۔
ایک ہفتے کے دوران یہ دوسرا موقع تھا کہاسرائیل کے دارالحکومت کے مغرب میں پہاڑیوں میں آگ لگنے سے مکینوں کا انخلاء ہوا ہے۔
فائر اینڈ ریسکیو سروس نے بتایا کہ یروشلم کی پہاڑیوں میں کم از کم پانچ مقامات پر آگ بھڑک رہی ہے۔
آگ گرمی کی لہر اور تیز ہواؤں کے درمیان لگی جس کی وجہ سے آگ پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔
نیو شالوم، بیکوآ، تاؤز، اور ناچشون کی کمیونٹیز کو لاترون میں فوجی یادگار کے ساتھ کا علاقہ خالی کر دیا گیا، اس جگہ پر شیدول کی گئی یوم آزادی کے سلسلہ کی ایک یادگاری تقریب میں خلل پڑا۔ قریبی خانقاہ کو بھی خالی کرا لیا گیا۔
پولیس کو کہا گیا کہ وہ میسیلیٹ صہیون کے ممکنہ انخلاء کے لیے بھی تیار رہیں۔
اسرائیل نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی نے کہا کہ وہ اس علاقے کے متعدد پارکوں سے پیدل سفر کرنے والوں کو نکال رہا ہے۔
زخمیوں کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔
روٹ 1، یروشلم اور تل ابیب کے درمیان مرکزی شاہراہ بند کر دی گئی، اور پولیس نے لوگوں کو علاقے سے بچنے کے لیے کہا۔ قریبی روٹ 3 کو بھی بند کر دیا گیا تھا، جیسا کہ روٹس 65، 70 اور 85 تھے۔
یروشلم اور تل ابیب کے درمیان ٹرین کی آمدورفت بھی منسوخ کر دی گئی۔
اسرائیل کی نیوز ویب سائٹ Ynet نے رپورٹ کیا۔ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور ماحولیاتی تحفظ کے وزیر ایدت سلمان اس آگ کے مقام کی طرف جا رہے تھے۔
ریسکیو سروس نے بتایا کہ آگ بجھانے والی 63 ٹیمیں اور 11 طیارے آگ سے لڑ رہے تھے۔
فائر فائیٹنگ سروس نے یروشلم کے علاقے میں تمام کارکنوں کا ایک عام کال اپ جاری کیا تھا، پھر بعد میں اس کو بڑھا دیا گیا تاکہ ملک بھر سے فائر فائیٹر یونٹوں کو یروشلیم جمع کیا جا سکے۔ میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی سروس کی ایمبولینسز اور ریسپانس گاڑیوں کو زخمیوں کی صورت میں مدد کے لیے اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا تھا۔
گزشتہ بدھ اور جمعرات کو لگنے والی آگ میں 10,000 دونام (2,471 ایکڑ) اراضی جل گئی تھی جس پر قابو پانے میں 100 فائر یونٹس کو 20 گھنٹے لگے تھے۔ اب پھر بدھ کو ہی آگ بھڑک اٹھی ہے اور یہ کئی مقامات پر ہے اور ہواؤں کی وجہ سے پھیل رہی ہے۔
اس آگ میں کسی رہائشی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ آگ ملک میں کئی روز سے جاری ہیٹ ویوو Heat Wave کے باعث پھوٹ پڑی، اور املاک کو صرف معمولی نقصان پہنچا۔ متعدد فائر فائٹرز کو ہلکے سے چوٹیں آئیں، دو دھواں سانس کے ساتھ پھیپھڑوں میں کھینچ لینے کے بعد ہسپتال میں داخل ہوئے۔
اسرائیل میں جنگل کی آگ کے اکثر واقعات انسانوں کی وجہ سے ہوتے رہے ہیں اور عموماً غفلت کا نتیجہ ہوتی ے ہیں۔
اسرائیل طویل، گرم اور خشک موسم گرما سے گزرتا ہے، جہاں جنگل کی آگ کے لیے موزوں حالات از خود پیدا ہو جاتے ہیں۔ 1989، 1995، 2010، 2015، 2019، 2021 اور 2023 میں بڑی آگ بھڑک اٹھی تھی۔

جولائی 2024 میں ریاستی کنٹرولر کی ایک افسوسناک رپورٹ سے پتا چلا کہ فائر اینڈ ریسکیو اتھارٹی نے 2022 میں لگنے والی تقریباً 9 فیصد آگ اور 2023 میں لگنے والی 14 فیصد آگ کی وجہ کی تحقیقات کی ہیں۔ 2020 سے 2022 کے درمیان اس نے کھولی گئی تحقیقات میں سے 50 فیصد سے زیادہ ایک سال کے بعد بھی کھلی تھیں۔
