ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

افطاری میں پکوڑوں سموسوں کا استعمال،ماہرین صحت کیا کہتے ہیں؟

افطاری میں پکوڑوں سموسوں کا استعمال،ماہرین صحت کیا کہتے ہیں؟
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:رمضان المبارک میں افطاری دسترخوان پکوڑوں اور سموسوں کے بغیر ادھورا سا لگتا ہے۔ یہ روایتی اشیاء نہ صرف ذائقے میں لذیذ ہوتی ہیں بلکہ روزہ کھولتے وقت فوری توانائی بھی فراہم کرتی ہیں۔

 پکوڑے اور سموسےگرم اور خستہ ہونے کی وجہ سے ذائقہ دوبالا ہو جاتا ہے،اگرچہ یہ اشیاء لذیذ ہوتی ہیں، لیکن ماہرین صحت کے مطابق زیادہ مقدار میں استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

زیادہ تیل اور کیلوریز
معدے کی تیزابیت اور بدہضمی
وزن میں اضافہ
کولیسٹرول بڑھنے کا خدشہ
 متوازن طریقہ کیا ہے؟
مقدار کم رکھیں (1–2 سموسے یا چند پکوڑے کافی ہیں)
ائیر فرائر یا کم تیل میں تیار کریں۔
ساتھ میں پھل، سلاد اور دہی شامل کریں۔
پانی اور مشروبات کا متوازن استعمال کریں۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق افطاری ہلکی اور متوازن ہونی چاہیے تاکہ معدہ اچانک بوجھ کا شکار نہ ہو۔