ویب ڈیسک : آرٹیفیشل انٹیلی جنس جسے سادہ الفاظ میں اے آئی کہا جاتا ہے، جہاں اس نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک تیز رفتاری بھر دی ہے ، وہیں اس کا غلط استعمال کئی زندگیاں بھی متاثر کرسکتا ہے، کیونکہ اس سے کئی نئے جرائم نے بھی جنم لیا ہے، اور اے آئی کے ذریعے کیے گئے گھناؤنے کھیلوں سے کئی افراد متاثر بھی ہوچکےہیں۔
ڈنمارک کی سربراہی میں کی جانے والی تحقیقات کو آپریشن کمبرلینڈ کا نام دیا گیا، جس کیلئے یوکے فورسز سے میٹروپولیٹن پولیس، کینٹ پولیس، ویسٹ مرسیا پولیس، نارتھمپٹن شائر پولیس، ایسیکس پولیس، پولیس اسکاٹ لینڈ، ہرٹ فورڈ شائر کانسٹیبلری اور لنکن شائر پولیس شامل ہوئیں، جبکہ اس آپریشن میں آسٹریلیا، آسٹریا، بیلجیئم، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اسپین اور نیوزی لینڈ کو شامل کیا گیا۔
رواں ہفتے ہونے والے اس بڑے آپریشن کے دوران 19 ممالک میں 273 مشتبہ افراد کی نشاندہی کی گئی تھی۔ آپریشن کے دوران 33 گھروں کی تلاشی لی گئی ، جہاں سے 173 اشیاء ضبط کی گئیں جبکہ 25 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ۔ عالمی سطح پر گرفتار کیے گئے 25 مشتبہ افراد میں سے زیادہ ترکا تعلق جرائم پیشہ گروہوں سے ہے، آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
اے آئی کی مدد سے اس گھناؤنے کھیل کے مرکزی ملزم کا نام دانش ہے ، جو ڈنمارک کا شہری ہے، اسے نومبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزم ایک آن لائن پلیٹ فارم چلاتا تھا، جہاں اے آئی سے تیار کردہ بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر فروخت کی جاتی ہیں، صارفین ان تصاویر کیلئے پلیٹ فارم کو ادائیگی کرتے تھے۔
دوسری جانب یوروپول کے جاری کردہ بیان کے مطابق ’ اے آئی سے تیار کردہ بچوں کے جنسی مواد( AI-generated child sexual abuse material ) کا ماڈل بڑے پیمانے پر دستیاب ہے اور تیزی سے تیار ہو رہا ہے ، یہ مواد حقیقی مواد سے مشابہت رکھتا ہے جس کی وجہ سے مصنوعی طور پر تیار کردہ مواد کی شناخت مشکل ہوجاتی ہے اور یہی وجہ ہے اعلیٰ حکام کو متاثرین کی شناخت میں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے‘۔