ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سعودی پرنس خالد نے ایران کی قیادت کو نیوکلئیر مذاکرات پرکیا پیغام پہنچایا

 Prince Khalid Bin Salman, Saudi Defence Minister, Iran, Masood Parshkian, Abbas Iraqchi, Donal Trump, Iran;s Nuclear program, Uranium enrichment
کیپشن:  File Photo  ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 17 اپریل 2025 کو تہران، ایران میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی۔ پرنس خالد کی صدر پرشکیان کے ساتھ رسمی / ورکنگ ملاقات میں شاہ سلمان کا خاص پیغام پہنچانے کی خبر اس ملاقات کے ڈیرھ ہفتے بعد اب سامنے آئی ہے ۔ ایران نے اس رپورٹ کے پیغام رسانی سے متعلق مندرجات کی تردید کی ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  ایران کے  یورینیم انرچمنٹ کے عمل میں غیر معمولی اضافہ کرنے کی آئی اے ای اے لیک کے  ایک دن پہلے  میڈیا میں نیوز ایجنسی روئٹرز کی اس خبر نے  جگہ بنائی  کہ سعودی عرب کے وزیر دفاع پرنس خالد  نے تہران کے دورے کے دوران سعودی عرب کے شاہ سلمان کا ارجنٹ پیغام پہنچایا تھا جو نیوکلئیر ڈیل تک بہرصورت پہنچنے کے مشورہ پر مشتمل تھا۔

 ایران کی طرف سے اس رپورٹ کی تردید کی گئی جبکہ وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے دباؤ کو کھلا راز قرار دیا تاہم پرنس خالد کی پیغام رسانی سے آگاہ ہونے پر کوئی اشارہ نہیں دیا۔

اس خبر کی اشاعت کے بعد نیوز ایجنسیوں نے آئی اے ای اے کی ایک نامعلوم ذریعہ سے لیک ہونے والی رپورٹ سے اخذ کی گئی خبریں  دنیا کے میڈیا کو ریلیز  کیں کہ ایران نے فروری کے بعد یورینیم انرچمنٹ کے عمل کو غیر معمولی بڑھایا ہے۔

روئٹرز نے "ذرائع" کے حوالے سے یہ انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب کے پرنس خالد بن سلمان  17 اپریل کو اہم ملاقاتوں کے لئے تہران گئے تو انہوں نے سعودی عرب کے شاہ سلمان کا یہ ارجنٹ پیغام پہنچایا تھا کہ  ایران کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات نتیجہ تک نہیں پہنچے تو اسرائیل ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

پرنس خالد بن سلمان کے گزشتہ ماہ کے تیسرے ہفتے تہران کے غیر معمولی دورہ نے بہت سے آبزرورز کو چونکایا تھا لیکن اس وقت اس دورہ کے مقاصد کے متعلق تہران کے رسمی اعلامیہ کے سوا  کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔ اس دورہ میں پرنس خالد نے آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کی تھی۔

اب روئٹرز نے رپورٹ دی ہے کہ ریاض نے امریکہ ایران جوہری مذاکرات میں تیزی سے پیش رفت پر زور دیا تھا۔ پرنس نے کہا  تھا کہ ٹرمپ کے نقطہ نظر سے مذاکرات کے لیے بہت کم گنجائش باقی ہے۔
انہوں نے متنبہ کیا  تھا کہ تعطل کا شکار ہونے والا معاہدہ اسرائیلی فوجی کارروائی کو شروع کرنے کا خطرہ مول لے سکتا ہے۔

اس دورہ کے بعد جو اہم پیش رفت ہوئیں ان میں اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی امریکہ کے صدر ٹرمپ کو فون کال میں مبینہ تلخ گفتگو  سرفہرست تھی، گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے اوول آٖس مین صحافیوں سے ملاقات کے دوران ایک صحافی کے براہ راست سوال کے جواب میں سیدھے  الفاظ میں اعتراف کیا کہ  ان کی نیتن یاہو سے فون پر بات ہوئی اور انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کا مذاکرات کے اس مرحلہ پر ایران پر حملہ کرنا مناسب نہیں۔  

اس دوران امریکہ کے ایران کے ساتھ مذاکرات میں کیا حقیقی پیش رفت ہوئی یہ ہنوز سامنے نہیں آیا البتہ اب پرنس خالد کی پیغام رسانی کے متعلق روئٹرز کی رپورٹ اور اس کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ ایران آئی اے ای اے کی فروری میں بنائی گئی  سہ ماہی رپورٹ کے بعد سے  133 کلو گرام مزید یورینیم کو  60 فیصد انرچ کر چکا ہے۔

ایران اور امریکہ کی ایرانی  نیوکلئیر پروگرام کو عملاً کیپ کرنے کے موضوع پر حساس مذاکرات تیسرے فریق کی وساطت سے ہو رہے ہیں اور اب تک عمان اور اٹلی میں مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔  سعودی عرب کے وزیر دفاع نے گزشتہ ماہ تہران میں ایرانی حکام کو ایک دو ٹوک پیغام دیا: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جوہری معاہدے پر بات چیت کی پیشکش کو سنجیدگی سے لیں کیونکہ یہ اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​کے خطرے سے بچنے کا راستہ پیش کرتا ہے۔

روئٹرز نے دو ایرانی حکومتی حلقوں کے قریبی خلیجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ خطے میں مزید عدم استحکام کے خدشے کے پیش نظر سعودی عرب کے 89 سالہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے بیٹے شہزادہ خالد بن سلمان کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے انتباہ کے ساتھ روانہ کیا تھا، 

ذرائع نے بتایا کہ تہران میں بند کمرے کمیں جو  اجلاس 17 اپریل کو صدارتی  دفتر میں ہوا تھا،  اس میں ایران کے  صدر مسعود پیزشکیان، مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری اور وزیر خارجہ عباس عراقچی موجود تھے۔
اس وقت جب میڈیا نے 37 سالہ شہزادے کے دورے کی کوریج کی، شاہ سلمان کے خفیہ پیغام کا مواد رپورٹ نہیں کیا گیا تھا۔

ٹرمپ صبر نہیں  کریں گے

نیوز ایجنسی نے بتایا کہ چار ذرائع کے مطابق، شہزادہ خالد، جو ٹرمپ کے پہلے دور میں واشنگٹن میں سعودی سفیر تھے،  انہوں نے ایرانی حکام کو خبردار کیا کہ امریکی رہنما کے پاس مذاکرات کے لیے بہت کم صبر ہے۔
ٹرمپ نے پرنس خالد کے تہران وزٹ سے  ایک ہفتہ ہی پہلے غیر متوقع طور پر اعلان کیا تھا کہ تہران کے ساتھ براہ راست بات چیت ہو رہی ہے، جس کا مقصد پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی موجودگی میں کیا، جو ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے  اپنے منصوبے کےلیے حمایت حاصل کرنے کی بجائے واشنگٹن گئے تھے۔
تہران میں شہزادہ خالد نے سینئر ایرانی عہدیداروں کے گروپ کو بتایا کہ ٹرمپ کی ٹیم جلد کسی معاہدے تک پہنچنا چاہے گی اور (چار ذرائع کے مطابق) سفارت کاری کی کھڑکی تیزی سے بند ہو جائے گی۔
تاہم آج  31 مئی کو صورتحال یہ ہے کہ "ڈپلومیسی کی کھڑکی بدستور کھلی ہے" اور آج ہی  ایران کے وزیر خارجہ کی طرف سے یہ  اطلاع آئی ہے کہ ایران نے امریکہ سے بھیجی گئی  کچھ تجاویز عمان کے وزیر خارجہ سے وصول کی ہیں۔ 

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ اومان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے ہفتے کے روز تہران کو ایک امریکی تجویز پیش کی ہے جو کہ جاری بالواسطہ جوہری مذاکرات سے متعلق ہے۔

عراقچی نے آج  X پر لکھا کہ البوسیدی نے امریکی تجویز کے عناصر پیش کرنے کے لیے ایرانی دارالحکومت کا "مختصر دورہ" کیا۔

پرنس خالد کی ڈپلومیسی کے متعلق روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سعودی وزیر نے کہا  تھا کہ اگر بات چیت ٹوٹ جاتی ہے تو اسرائیل کے حملے کے امکان کا سامنا ہو گا۔ اس حملے کا سامنا کرنے سے بہتر ہو گا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کر لیا جائے۔
دو خلیجی ذرائع اور بات چیت سے واقف ایک سینئر غیر ملکی سفارت کار نے کہا کہ پرنس خالد نے دلیل دی کہ خطہ - پہلے ہی غزہ اور لبنان میں حالیہ تنازعات سے دوچار ہے - کشیدگی میں مزید اضافے کو برداشت نہیں کر سکتا۔

ایران کی جانب سے پرنس خالد کے پیغام رسانی کرنے کی تردید
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، روئٹرز کی ریلیز کی ہوئی اس خبر کے شائع ہونے سے پہلے ایرانی حکام نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا تھا، لیکن اس کی اشاعت کے بعد وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے رائٹرز کی رپورٹ کی "صاف تردید" کی۔ سعودی عرب میں حکام نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے چھوٹے بھائی شہزادہ خالد کا یہ دورہ  20 سال سے زائد عرصے میں سعودی شاہی خاندان کے کسی سینئر رکن کا پہلا دورہ تھا۔ ریاض اور تہران طویل عرصے سے تلخ حریف رہے ہیں، جو اکثر پراکسی جنگوں میں مخالف فریقوں کی پشت پناہی کرتے تھے، یہاں تک کہ 2023 میں چین کی ثالثی کی وجہ سے کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کرنے میں مدد ملی۔

پچھلے دو سالوں کے دوران، ایران کی علاقہ میں سٹریٹیجک پوزیشن غزہ میں اس کے اتحادی حماس اور لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیل کی طرف سے شدید فوجی حملوں اور اس کے قریبی اتحادی، شام کے آمر بشار الاسد کی حکومت کو گرانے سے کمزور ہوئی ہے۔ اس دوران مغربی پابندیوں نے اس کی تیل پر منحصر معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔

ایران ایک معاہدہ چاہتا ہے
رائٹرز کی رپورٹ مین بتایا گیا کہ نیوز ایجنسی  ایران کی قیادت پر شہزادے کے پیغام کے اثرات کا تعین کرنے سے قاصر تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایجنسی نے چار ذرائع ن کے حوالے سے بتایا کہ ملاقات میں پیزشکیان نے جواب دیا کہ ایران مغربی پابندیوں کے خاتمے کے ذریعے اقتصادی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک معاہدہ چاہتا ہے۔
تاہم، ذرائع نے مزید کہا، ایرانی حکام نے مذاکرات کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے "غیر متوقع" نقطہ نظر پر تشویش کا اظہار کیا - جس نے محدود یورینیم کی افزودگی کی اجازت دینے کی جگہ تہران کے افزودگی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورینیم انرچمنٹ/ افزودگی روکنا ایران کو قبول نہیں

ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر سفارت کاری ایران کےنیوکلئیر  عزائم کو روکنے میں ناکام رہی تو وہ فوجی طاقت استعمال کریں گے۔
ایرانی ذرائع میں سے ایک نے کہا کہ پیزشکیان نے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے تہران کی خواہش پر زور دیا لیکن یہ کہ ایران اپنے افزودگی پروگرام کو صرف اس لیے قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ ٹرمپ ایک معاہدہ چاہتے ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان  جوہری تنازعہ کو حل کرنے کے لیے پہلے ہی پانچ دور ہو چکے ہیں، لیکن افزودگی کے اہم مسئلہ سمیت متعدد رکاوٹیں باقی ہیں۔
بات چیت سے واقف دو ایرانی ذرائع کے مطابق، روئٹرز نے بدھ کے روز اطلاع دی  کہ اگر امریکہ  ایران کے  منجمد فنڈز  ریلیز  کرتا ہے اور ایک "سیاسی معاہدے" کے تحت سویلین استعمال کے لیے یورینیم کو صاف کرنے کے اس کے حق کو تسلیم کرتا ہے تو ایران یورینیم کی افزودگی روک سکتا ہے، جو کہ ایک وسیع تر جوہری معاہدے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے رپورٹ کی تردید کی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے رائٹرز کے اس سوال پر براہ راست جواب نہیں دیا کہ آیا وہ ایران کو سعودی پرنس کے انتباہ سے آگاہ تھا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے ایک بیان میں کہا، ’’صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے: معاہدہ کریں، یا سنگین نتائج کا سامنا کریں، اور پوری دنیا واضح طور پر انھیں سنجیدگی سے لے رہی ہے، جیسا کہ انھیں ہونا چاہیے۔‘‘
ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہ کریں جس سے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں خلل پیدا ہو، اور کہا کہ دونوں فریق "اب حل کے بہت قریب ہیں"۔
اسرائیلی حکام نے اس رپورٹ کے متعلق کوئی تبصرہ  نہیں دیا۔


ہائی سٹیکس
ٹرمپ کے اس ماہ خلیج کے چار روزہ دورے نے سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ میں سنی ریاستوں کے ایک نئے محور کے سب سے نمایاں رکن کے طور پر  ایک بار پھر اجاگر کیا۔

اس دورے کے دوران یہ بات بھی ابھر کر سامنے آئی کہ شام اب ایران کا اتحادی نہیں، شام اب سعودی عرب کی سائیڈ پر ہے۔

  دورے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ اور شام کے نئے سنی رہنما احمد الشارع کے درمیان مصالحت کی ثالثی کی۔
 تہران کی  مشرق وسطیٰ میں  اثر پذیری  ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ترتیب دیا گیا شیعہ اکثریتی مزاحمتی محور، جس میں حماس، حزب اللہ، یمن میں حوثی اور عراقی ملیشیا شامل ہیں،  گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اسرائیل کی حماس اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے فوجی دھچکے سے کم ہو گئی ہے۔ شام مین بشار الاسد کی حکومت ختم ہو گئی اور یمن کے حوثی امریکہ اور اسرائیل کے براہ راست حملوں کے نشانے پر آ گئے۔ ایران کے کئی اہم فوجی افسر اسرائیل کے حملوں میں مارے گئے، لبنان مین حزب اللہ کی قیادت کا صفایا ہوا،  پھر اس سے آگے بڑھ کر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا اور اسرائیل نے ایران پر ایسا حملہ کیا جس کے جواب میں ایران نے کچھ نہیں کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ  17 اپریل کی ملاقات میں شہزادہ خالد نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنی علاقائی پالیسی پر نظر ثانی کرے، اس طرح کی تبدیلی کا خاص طور پر ریاض کی طرف سے خیر مقدم کیا جائے گا۔
اگرچہ پرنس خالد  براہ راست ایران پر انگلی اٹھانے سے باز رہے، تب بھی سعودی وزیر نے 2019 میں ریاستی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے ممکنہ اعادہ پر تشویش کا اظہار کیا - تہران کے انکار کے باوجود ایران اور اس کے حوثی اتحادیوں سے منسوب مملکت پر حملے بہرحال زیر بحث آئے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ تہران کا حوثیوں پر کچھ اثر و رسوخ ہے، لیکن وہ ان کی کارروائیوں پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا۔
شیعہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان عشروں کی دشمنی نے خلیج کو غیر مستحکم کیا اور یمن سے شام تک علاقائی تنازعات کو ہوا دی۔ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران سعودی ولی عہد محمد کے معاشی عزائم اور استحکام کی خواہش  کی وجہ سے ایران اور سعودی عرب کی حکومتوں کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔

شہزادہ خالد نے ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اور ان کے اتحادیوں کے ایسے اقدامات سے گریز کریں جو واشنگٹن کو مشتعل کر سکتے ہیں، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ٹرمپ کا ردعمل ممکنہ طور پر ان کے پیش رو صدر جو بائیڈن اور بارک اوباما سے زیادہ سخت ہو گا۔
ذرائع نے بتایا کہ بدلے میں، انہوں نے تہران کو یقین دلایا کہ ریاض اپنی سرزمین یا فضائی حدود امریکہ یا اسرائیل کو ایران کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔