ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

افغان بارڈر کی بندش ٹماٹر مہنگا ہونے کی وجہ قرار ; اگلے 4 ماہ تک ٹماٹر مہنگا رہنے کا امکان

افغان بارڈر کی بندش ٹماٹر مہنگا ہونے کی وجہ قرار ; اگلے 4 ماہ تک ٹماٹر مہنگا رہنے کا امکان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: درآمدی رکاوٹوں اور سپلائی بحران نے ٹماٹر عوام کی پہنچ سے دور کر دیا۔ افغان بارڈر کی بندش بھی ٹماٹر مہنگا ہونے کی وجہ قرار   دی گئی ۔ 
چیئرمین  فروٹ ویجیٹبل ایکسپورٹر امپورٹرز     اسلم پکھالی نے کہا ایران سے ٹماٹر کی درآمد پر عائد ٹیکسز کو ختم کیا جائے، ایران سے آنے والے ٹماٹر پر فی کلو 12 روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز عائد ہیں،تفتان بارڈر پر گاڑیوں کی کلیئرنس میں شدید مشکلات کا سامنا ہے،بلوچستان کے بعض علاقوں کا ٹماٹر اس وقت مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے، افغان بارڈر بند ہونے سے ٹماٹر کی سپلائی متاثر ہوئی ہے،پاکستان اپنی ضرورت کا 20 سے 25 فیصد ٹماٹر ایران سے درآمد کرتا ہے،جون سے اکتوبر تک افغانستان سے تقریباً 40 فیصد ٹماٹر پاکستان آتا ہے، 
افغان بارڈر کی بندش سے مقامی مارکیٹ میں سپلائی کا بحران پیدا ہوگیا،نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں اشیاء کی قلت نہ ہونے دے۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی قلت ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہی،آئندہ تین سے چار ماہ تک ٹماٹر کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے،سندھ میں ٹماٹر کا نیا سیزن اکتوبر اور نومبر میں شروع ہوگا،سندھ کے نئے سیزن کے آغاز کے بعد ٹماٹر کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔