ویب ڈیسک: سال 2025 اپنے اختتام کو پہنچ چکا اور دنیا ایک نئے سال 2026 کو خوش آمدید کہہ چکی ہے، بدلتی ہوئی عالمی، علاقائی اور داخلی صورتحال کے تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کررہا ہے کہ آنے والا سال پاکستان کے لیے کیسا ثابت ہوگا۔
عالمی کشیدگی، سیاسی غیر یقینی اور معاشی چیلنجز کے پس منظر میں مختلف ماہرین اور علمِ نجوم سے وابستہ شخصیات سال 2026 کو پاکستان کے لیے اہم تبدیلیوں اور فیصلوں کا سال قرار دے رہی ہیں۔
علمِ نجوم سے وابستہ ماہر سامعہ خان کے مطابق سال 2026 پاکستان کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر اہم تبدیلیوں کا حامل ہو سکتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا بھر میں کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے، تاہم پاکستان کے حالات مجموعی طور پر نسبتاً بہتر رہنے کے امکانات ہیں۔
سامعہ خان کے مطابق چونکہ بھارت اس وقت اندرونی سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل سے دوچار ہے، جس کے باعث وہ پاکستان کے ساتھ کسی بڑے یا براہِ راست تنازع میں الجھنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ فروری کے بعد دنیا ایک نہایت حساس عالمی مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے، جو آئندہ چند برسوں تک عالمی سطح پر بے چینی اور کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، پاکستان اور اس کے گرد و نواح کا خطہ اس صورتحال سے نسبتاً محفوظ رہے گا۔
معاشی حوالے سے سامعہ خان کا کہنا ہے کہ 2026 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، صنعتی سرگرمیوں میں بہتری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں، جس سے ملکی معیشت کو استحکام مل سکتا ہے۔
عمران خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فروری 2026 کے بعد عمران خان کے لیے سیاسی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے،عمران خان کے جیل سے باہر آنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
آسٹرولجر حیدر علی جعفری کا کہنا ہے کہ سال 2026 دنیا اور بالخصوص پاکستان کے لیے اہم اور فیصلہ کن تبدیلیوں کا حامل ہو سکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ جنوری اور فروری 2026 ایسے مہینے ہوں گے جن میں عالمی سطح پر بے چینی، سیاسی غلط فیصلوں اور کشیدگی کے امکانات نمایاں ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کا افغانستان اور بھارت کے ساتھ سرحدی علاقوں میں تناؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر یوکرین جنگ اور جنوبی بحیرہ چین میں کشیدگی میں اضافے کے امکانات بھی موجود ہیں، عالمی نظام میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ علمِ اعداد کے مطابق سال 2025 کا عددی مجموعہ 9 بنتا ہے، جسے اختتام اور منتقلی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ نکولا ٹیسلا کے 3، 6 اور 9 کے نظریے کے تناظر میں دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
نجومی حیدر علی جعفری کے مطابق 2026 کے دوران پاکستان ایک سیاسی ری سیٹ کے عمل سے گزر سکتا ہے، جہاں موجودہ سیاسی ڈھانچہ کمزور پڑنے اور نئی سیاسی سوچ اور قیادت کے ابھرنے کے امکانات ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آئندہ دو سے تین برسوں میں مسلم دنیا کو دباؤ کا سامنا رہ سکتا ہے، تاہم اس کے بعد مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور ردعمل کے نتیجے میں عالمی نظام میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہو سکتی ہیں۔
حیدر علی جعفری کے مطابق 2026 کے بعد کے 9 سے 10 سال دنیا میں نئی قیادت، نئے اتحاد اور نئے معاشی و سیاسی منصوبوں کا دور ہو سکتے ہیں، جہاں پاکستان کے لیے بھی ایک نئے کردار کے ساتھ سامنے آنے کے امکانات موجود ہیں، تاہم اس سے قبل ملک اور خطے کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔