سٹی 42: بانی سے ملاقات نہ ہونے پر پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال پھر کھٹائی میں پڑ گئی ۔
پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو سرکاری مشنری کے استعمال سے روک دیا ہے ۔
پی ٹی آئی احتجاج کے لیے علی امین گنڈا پور اپنے دور حکومت میں سرکاری مشنری اور سرکاری عملے کے ساتھ ساتھ پولیس فورس کو بھی احتجاج کا حصہ بناتے رہے ہیں ۔ پولیس کا سرکاری اسلحہ بھی اپنے احتجاجی مارچوں میں استعمال کرتے رہے ہیں ۔ اب تحریک انصاف کی احتجاج کی کال شروع ہونے سے پہلے ہی خطرے میں پڑ گئی ہے ۔
پشاور ہائیکورٹ نے کےپی حکومت کی سرکاری مشینری کے ناجائز استعمال کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی سرکاری گاڑی، مشینری یا عملہ احتجاج، مارچ یا سیاسی ریلی میں استعمال نہیں ہوگا۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ سرکاری وسائل کا غیر مجاز استعمال بدعنوانی اور اختیار کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔عدالت نے واضح کیا ہے کہ حکومت سیاسی سرگرمیوں میں مکمل غیرجانبداری یقینی بنائے۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ کسی سرکاری اہلکار کو سیاسی سرگرمی کیلئے تعینات نہ کیا جائے۔عدالت نے کہا ہے کہ سرکاری مشینری کا سیاسی استعمال بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔پشاور ہائیکورٹ نے حکومتی اہلکاروں کے سیاسی استعمال پر سخت اظہارِ تشویش کیا ہے۔عدالت نے کہا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کیلئے سرکاری وسائل کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔عدالت نے احتجاج اور ریلیوں میں سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ سرکاری وسائل کا غلط استعمال اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ سرکاری وسائل کے قانونی اور مناسب استعمال کو یقینی بنایا جائے۔عدالت نے کہا ہے کہ کسی سرکاری اہلکار کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے سرکاری ملازمین کو سیاسی ریلیوں اور مارچ میں شرکت سے روک دیا ہے۔عدالت نے سرکاری مشینری کے سیاسی استعمال پر سخت نوٹس لیا ہے۔عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی سرگرمیوں کیلئے سرکاری وسائل کے استعمال کی راہ بند ہو گئی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے۔دفعہ 144 کے تحت کسی بھی قسم کے احتجاج یا جلسے جلوس کی ہرگز اجازت نہیں۔
کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے انعقاد پر قانون فی الفور حرکت میں آئے گا۔شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ مت بنیں۔
نوٹیفیکشن کے مطابق نومبر کی 18 تاریخ کو دفعہ 144 لگائی گئی تھی جو کہ 2 ماہ کے لیے نافذالعمل ہے ۔ اس لیے تاحال اسلام آباد میں دفعہ 144 ہے
