خاوند کا بیوی پر خواجہ سراء ہونے کا الزام، عدالت نے منفرد فیصلہ جاری کردیا

(ملک اشرف) خاوند کا بیوی پر خواجہ سراء ہونے کا الزام، لاہور ہائیکورٹ میں منفرد کیس کا منفرد فیصلہ  جاری کردیا،  جسٹس طارق سلیم شیخ نے غلام مصطفی کی درخواست پر پچاس صحفات پر مشتل  تحریری فیصلہ جاری کیا ۔

 لاہور ہائیکورٹ  کےتحریری فیصلے میں افراد کی پرائیویسی سے متعلق سورہ البقرہ، الحجرات، النور کی آیات اور احادیث کی حوالے سے بحث بھی کی گئی ہے ۔تحریری فیصلے میں افراد کی نجی زندگی سے متعلق انجیل، اقوام متحدہ کمیٹی اور دیگر فیصلوں کے حوالے بھی دیئے گئے ہیں ۔تحریری فیصلے کے آغاز پر 19 ویں صدی کے امریکی سوشیالوجسٹ رابرٹ کے میرٹون کی کتاب کا حوالہ بھی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پرائیویسی محض کسی فرد کی ذاتی ترجیح نہیں بلکہ یہ معاشرتی ڈھانچے کو موثر طورپر چلانے کیلئے انتہائی اہم حصہ ہے۔

تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فیملی عدالت درخواست گزار کی بیوی جنس کی تعین کی درخواست فی الوقت زیر التواءرکھے، سعید بی بی کے سامان جہیز واپسی اور نان نفقہ دعوی میں خاتون کی صنفی صفات سے متعلق سوال کو بھی ایشوز میں شامل کیا جائے۔سعید بی بی کے نان و نفقہ کے دعوی میں تمام شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد خاتون کے میڈیکل کی درخواست پر دوبارہ سماعت کی جائے۔درخواست گزار کی بیوی سعید بی بی کی جنس کے تعین کا حکم ناگزیر صورتحال میں ہی جاری کیا جائے۔

غلام مصطفی اپنی بیوی کے طبی معائنے کی درخواست منظوری کے وقت 30 ہزار بطور زر ضمانت جمع کروائے گا۔درخواست گزار کا الزام غلط ثابت ہوا تو بطور زر ضمانت جمع کروائی گئی رقم خاتون کو ادا کی جائے، زر ضمانت کی شرط اس لئے کہ سعید بی بی اور دیگر خواتین کو غیر قانونی ہراساں نہ کیا جا سکے، فیملی عدالت سعید بی بی کو الزامات کی روشنی میں طبی معائنے کیلئے مجبور نہیں کرے گی۔

تحریری فیصلہ  میں مزید کہاگیا ہے کہ خاتون کے طبی معائنے سے انکار کی صورت میں فیملی عدالت جیسے مناسب سمجھے حکم جاری کرے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین میں بھی پرائیویسی کو بنیادی انسانی حقوق میں شامل کیا جا چکا ہے، بھارتی آئین میں پرائیویسی کو بنیادی حقوق میں تصور نہیں کیا گیا تا ہم انڈین سپریم کورٹ نے اسے بنیادی حق قرار دیا ،پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 زندگی کی آزادی، شہریوں کے وقار اور پرائیویسی کو تحفظ دینے کی بات کرتے ہیں۔

تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ فیصلہ میں مزید کہا گیا یے کہ پرائیویسی کا حق زندگی کی آزادی اور انسانی وقار سے جڑا ہوا ہے، پرائیویسی کسی فرد کی خودمختاری کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔قانونی طور پر دیکھا جائے تو عام طور پر حقوق کو قطعی حیثیت حاصل نہیں کیونکہ کسی کو نقصان پہنچانے کیلئے حقوق کا غلط استعمال بھی کیا جا سکتا ہے، جرمن آئینی ماہر ڈائیٹر گرم کے مطابق آئینی حقوق کا مطلب یہ نہیں کہ تمام پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہو گا، پاکستان میں طبی معائنے سے متعلق مختلف کیسز میں قانونی نکات طے ہو چکے ہیں۔

عدالتیں ناگزیر حالات جس میں طبی معائنہ کروانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو صرف انہی کیسز میں میڈیکل کروانے کے احکامات جاری کریں، فیملی عدالت ایک فریق کو میڈیکل ایگزامینیشن کروانے کا حکم دینے کا مکمل اختیار رکھتی ہے مگر اس کیلئے مذکورہ شرائط پر عمل کرنا لازم ہو گا۔تحریری فیصلے میں انسانی جنس کی اقسام پر بھی تفصیلی بحث کی گئی ہے  فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ قانون خواجہ سراﺅں کیساتھ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک سے روکتا اور آئین ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے، تمام قانونی تقاضوں کے بعد خواجہ سراﺅں کو جائیداد میں حصہ دینے کا ذکر بھی خاص طور پر قانون میں موجود ہے۔

سعید بی بی کے طبی معائنے میں صنفی صفات کی عدم موجودگی کی صورت میں درخواستگزار کی بیوی کے نان و نفقہ کے دعویٰ اور دیگر حقوق پر اثر پڑ سکتا ہے، درخواست گزار غلام مصطفی نے اپنی بیوی کی جنس کے تعین کیلئے طبی معائنہ کروانے کی درخواست مسترد کئے جانے کیخلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا ، فیملی عدالت تونسہ شریف نے درخواست گزار کی بیوی سعید بی بی کا طبی معائنہ کروانے کی درخواست 16 اکتوبر 2019ءکو مسترد کی تھی۔