سرکاری جامعات میں تبدیلی کا فیصلہ

سرکاری جامعات میں تبدیلی کا فیصلہ

(ریحان گل) پنجاب حکومت کا انتظامی سیٹوں پر بھرتی کے لئے وائس چانسلرز کے اختیارات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، انتظامی سیٹوں کے قواعد و وضوابط اب وائس چانسلرز نہیں حکومت خود طے کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کے زیرانتظام پنجاب کی 8 سرکاری جامعات میں انتظامی سیٹوں پر بھرتی کے لئے قواعد و ضوابط کا تعین کرنے کا اختیار متعلقہ وائس چانسلرز کے پاس ہے جن میں لاہور کی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن شامل ہیں، تاہم اب پنجاب حکومت نے وائس چانسلرز کا یہ اختیار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس مقصد کے لئے سمری وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائی گئی ہے۔

جس کے مطابق ان 8 سرکاری یونیورسٹیز میں رجسٹرار، کنٹرولر اور خزانچی کی سیٹوں پر بھرتی کے لئے قواعد و ضوابط متعلقہ وائس چانسلرز کی بجائے پنجاب حکومت خود طے کرے گی۔

دوسری جانب سرکاری یونیورسٹیوں کوآن لائن ایجوکیشن کے لئے1،1کروڑکےامدادی پیکج کامعاملہ سر اٹھانے لگا،یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈٹیکنالوجی نےپیکج کی تقسیم پرسوالات اُٹھادیئے،صدریونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈٹیکنالوجی ابراہیم حسن مراد نےٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہائرایجوکیشن نےآن لائن ایجوکیشن کوبہتربنانے کے لئےامدادی پیکجزجاری کئے،کیا نجی یونیورسٹیوں میں طلباء پاکستانی نہیں؟

ابراہیم حسن مراد نے مزید سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیاپرائیویٹ یونیورسٹی میں فیکلٹی مستحق نہیں؟پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے3 لاکھ 50 ہزار طلباء کی کیا غلطی ہے؟کیاپرائیویٹ یونیورسٹیزکےطلباکوکسی مدد کی ضرورت نہیں؟شایدیہی وجہ ہےتعلیمی اداروں میں پارٹیسیپیشن ریٹ صرف10فیصدہے۔