ویب ڈیسک: امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کی پبلک کمپنی بننے کے بعد پہلی سہ ماہی آمدنی رپورٹ سے قبل سرمایہ کاروں نے مالی نتائج سے زیادہ کمپنی کے راکٹ، چاند مشن اور مستقبل کے منصوبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپیس ایکس نے سرمایہ کاروں کے لیے ایک آن لائن پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے، جہاں وہ کمپنی کی آمدنی رپورٹ سے قبل سوالات جمع کرا سکتے ہیں اور دیگر سوالات کو ووٹ بھی دے سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ کمپنی کے سربراہ ایلون مسک بھی آئندہ ہونے والی ارننگز کال میں شریک ہوں گے۔
سرمایہ کاروں کی جانب سے سب سے زیادہ مقبول سوالات ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے لیے تیار کیے جانے والے اسٹارشپ ہیومن لینڈنگ سسٹم، مدار میں ایندھن بھرنے، راکٹ کے اگلے مراحل اور نئی ٹیکنالوجی سے متعلق تھے۔
کچھ سرمایہ کاروں نے اسپیس ایکس کے نئے شیبا اینو میسکاٹ "ایسٹرائڈ" کے بارے میں بھی سوالات کیے اور تجویز دی کہ اسے تعلیمی سرگرمیوں اور فلاحی مہمات میں استعمال کیا جائے، جبکہ بعض صارفین نے راکٹ کو گلابی رنگ دینے اور ہیٹ شیلڈ ٹائلز پر مداحوں کے نام درج کرنے جیسی تجاویز بھی پیش کیں۔
رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس نے اپنے آئی پی او میں تقریباً 30 فیصد حصص ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے مختص کیے تھے، تاہم فہرست میں شامل ہونے کے بعد کمپنی کے شیئرز اپنی بلند ترین سطح سے نصف سے زیادہ گر چکے ہیں۔
اس کے باوجود سرمایہ کاروں کی توجہ مالی کارکردگی کے بجائے کمپنی کے مستقبل کے خلائی منصوبوں پر مرکوز رہی، جبکہ ایلون مسک کی دیگر کمپنی ٹیسلا کے ساتھ ممکنہ انضمام سے متعلق سوالات کو بھی خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی۔ ایلون مسک اس سے قبل ایسے انضمام سے متعلق خبروں کی تردید کر چکے ہیں۔