ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کمرشل گاڑیوں پرعائدٹیکس کی عدم وصولی میں سنگین بےضابطگیوں کاانکشاف

کمرشل گاڑیوں پرعائدٹیکس کی عدم وصولی میں سنگین بےضابطگیوں کاانکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی سنگین غفلت اور ناقص کارکردگی ایک بار پھر سامنے آ گئی۔ مالی سال 2022-23 کی آڈٹ رپورٹ نے محکمہ کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں، جس میں کمرشل گاڑیوں پر عائد ٹیکس کی عدم وصولی میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ ایکسائز نے کمرشل گاڑیوں سے 76 کروڑ 22 لاکھ روپے کا ٹیکس وصول نہیں کیا۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ لاہور سمیت مختلف اضلاع کے 15 ایکسائز دفاتر کی غفلت کے باعث 10 لاکھ روپے کی انکم ٹیکس وصولی ممکن نہ ہو سکی جس سے حکومتی خزانے کو شدید مالی نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہور سمیت 72 ہزار 194 کمرشل گاڑیاں ٹیکس کی ادائیگی میں ناکام رہیں، حالانکہ یہ گاڑیاں 800 سی سی سے زائد کیٹیگری میں آتی ہیں اور ان پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور فنانس ایکٹ 2008 کے تحت ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔محکمہ نے متعلقہ قوانین کے باوجود ٹیکس وصولی کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمزور انتظامی گرفت اور عملے کی لاپروائی کے باعث ریکوری ممکن نہ ہو سکی۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 2021 میں محکمانہ سطح پر ان بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، مگر اب تک کوئی خاطر خواہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی دسمبر 2021 اور جنوری 2022 میں 75 کروڑ 97 لاکھ روپے کی وصولی کی تصدیق کر چکی ہے، لیکن اب بھی 25 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بقایا ہے۔

آڈٹ حکام نے مکمل ریکوری کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام واجبات کی فوری اور مکمل وصولی یقینی بنائی جائے۔خزانے کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے اور غفلت برتنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔