سٹی42: اسرائیل میں بڑھتی سیاسی کشیدگی کے دوران یروشلم میں نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف احتجاج ہوا جس میں اپوزیشن کی رکن پارلیمنٹ کے ساتھ پولیس نے برا سلوک کیا۔ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ پولیس یروشلم میں حکومت مخالف مظاہرے میں اپوزیشن ایم کے کے ساتھ بدتمیزی کر رہی ہے۔
خاتون پارلیمنٹیرین کے ساتھ پولیس کی اس بدتمیزی پر اسرائیل میں الگ سے احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ اسرائیل میں احتجاج کرنے والوں کے ساتھ پولیس کی میل ہینڈلنگ کا پہلا واقعہ نہیں، اس واقعہ کو اس لئے زیادہ ڈسکس کیا جا رہا ہے کہ اس میں خاتون رکن کنیست بھی بد تہذیبی کا نشانہ بن گئیں۔
کنیست (پارلیمنٹ) کے رکن نما لازیمی 31 مارچ 2025 کو یروشلم میں Knesset کے قریب ایک حکومت مخالف احتجاج سے خطاب کر رہی ہیں۔ (Yonatan Sindel/Flash90)
سیکیورٹی فورسز کو کنیسیت کے باہر احتجاج کے دوران ڈیموکریٹس پارٹی کے کی ممبر کنیست نما لازیمی سے بدتمیزی کرتے ہوئے فلمایا گیا ہے۔
لوگوں کے چیخنے کے باوجود کہ وہ Knesset کی رکن ہیں، پولیس کے افسران نےنیتن یاہو کی مخالف قانون ساز کو پکڑ لیا، کھینچا اور دھکیل دیا، اس دوران وہ خوف سے چیخ رہی تھیں
اس فوٹیج کا جواب دیتے ہوئے، ڈیموکریٹس کے چیئر یائر گولن کو کہنا پڑا کہ اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ "اشتعال انگیزی میں اضافہ ہوا ہے، اور تحمل ختم ہو گیا ہے۔"
"میں ناما کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ ایک بہادر فائٹر ہے جو دباؤ یا گرفتاری کے ڈر سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اور نما کی طرح، سڑکوں پر موجود لاکھوں شہری بھی باز نہیں آئیں گے۔ جو بھی یہ سوچتا ہے کہ انہیں توڑا جا سکتا ہے، وہ تاریخی غلطی کر رہا ہے،" انہوں نے ٹویٹ کیا۔
"میں نے کمشنر ڈینی لیوی کو پہلے ہی بتا دیا ہے اور میں اس کا دوبارہ اعلان کر رہا ہوں: کوئی بھی پولیس افسر جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ شہریوں کے خلاف تشدد پر اپنا کیریئر بنائے گا - اسے دوبارہ سوچنے دیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ذمہ دار پولیس افسران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔"
یروشلم میں ہزاروں افراد نے حکومت کے خلاف اور غزہ میں یرغمالیوں کو واپس لانے کے معاہدے کے لیے احتجاج کیا۔ ان میں سے کچھ کا تعلق اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں سے بھی تھا تاہم بیشتر لوگ یرغمالیوں کی رہائی کی تحریک سے تعلق رکھتے ہیں جس کا مرکزہ یرغمالیوں کے قریبی عزیز اور اب حماس کی قید سے رہا ہو کر واپس آ چکے سابق یرغمالی ہیں۔