اسٹیٹ بینک کادعویٰ شرمندہ، نئے کرنسی نوٹس بلیک میں فروخت


سٹی42 : اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے عوام کو عید الفطر پر نئے کرنسی نوٹس جاری کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، شہریوں کو بنکوں سے تو نئے نوٹ مل نہ سکے جبکہ نئے نوٹس کی اسٹیٹ بنک کی عمارت کے باہر دھڑلے سے بلیک میں فروخت جاری۔

تفصیلات کے مطابق عید الفطر کے پیش نظر اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے اربوں روپے کے نئے کرنسی نوٹس جاری کیے جن کے حصول کے لئے اسٹیٹ بنک نے ایک ایس ایم ایس سروس کا اجرا بھی کیا، لیکن شہریوں کو بنکوں سے نئے کرنسی نوٹس نہ مل سکے۔ جبکہ یہی کرنسی نوٹس اسٹیٹ بنک کی عمارت کے باہر بلیک میں فروخت کیے جا رہے ہیں، دس روپے والی نئے نوٹوں کی گڈی پر اڑھائی سو روپے زائد وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ بیس روپے کی گڈی پر تین سو، پچاس روپے والی نئے نوٹوں کی گڈی پر تین سو اور ایک سو والے نئے نوٹوں کی گڈی پر بھی تین سو روپے زائد وصول کیے جا رہے ہیں۔

 اسٹیٹ بنک کے باہر بلیک میں نوٹ فروخت کرنے والے کیمرے کا سامنا تو نہ کر سکے لیکن انکا کہنا ہے کہ انہیں یہ نئے نوٹ اسٹیٹ بنک اور مختلف بنکوں کے ملازمین فروخت کرنے کے لیے دیتے ہیں جس میں ان ملازمین کا بھی کمیشن ہوتا ہے۔ دوسری طرف شہریوں کا کہنا ہے کہ عید پر بچوں کو عیدی دینی ہوتی ہے جس کے لئے نئے نوٹ ہی اچھے لگتے ہیں، تاہم بنکوں سے نئے نوٹ نہیں ملے تو مجبوراً زائد پیسے ادا کر کے اسٹیٹ بنک کے باہر سے نئے نوٹ خریدنے پڑ رہے ہیں۔

ہر سال عید سے قبل اسٹیٹ بنک کی جانب سے شہریوں کو نئے کرنسی نوٹس کی مختلف کمرشل بنکوں سے فراہمی کا دعوہ کیا جاتا ہے لیکن ان نئے نوٹس کی فراہمی کے حوالے سے مانیٹرنگ کا کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا جاتا۔  اسی لئے نئے کرنسی نوٹس کی بلیک میں فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

شازیہ بشیر

Content Writer