وین ڈیسک: آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی سینیڈ او کونر نے مہنگی جائیدادوں سے مایوس ہو کر اٹلی کے ساحلی شہر ٹروپیا میں صرف 38 ہزار یورو میں اپنا پہلا گھر خرید لیا، جس کی کہانی سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا میں توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کووڈ وبا کے دوران گھروں کی تلاش کرتے ہوئے انہیں جنوبی اٹلی کے شہر ٹروپیا میں ایک اسٹوڈیو اپارٹمنٹ ملا، جسے انہوں نے 38 ہزار یورو میں خرید لیا۔ بعد ازاں تقریباً 3 ہزار یورو خرچ کرکے گھر کی تزئین و آرائش اور کچن کی مرمت بھی کرائی۔
سینیڈ او کونر کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ میں ان کی آمدنی کے ساتھ گھر خریدنا تقریباً ناممکن تھا، کیونکہ وہاں گھروں کی اوسط قیمت تقریباً 3 لاکھ 95 ہزار یورو ہے۔ ان کے بقول اٹلی میں گھر خریدنا ان کے لیے اپنی ملکیت حاصل کرنے کی جانب پہلا قدم ثابت ہوا۔
انہوں نے بعد میں اپنے بھائی کے ساتھ بالی میں بھی ایک ولا خریدا، جبکہ اٹلی میں موجود اپنا اپارٹمنٹ گرمیوں کے موسم میں کرائے پر دے کر ہفتہ وار تقریباً 1500 یورو آمدنی حاصل کر رہی ہیں۔ وہ اس وقت ایک ویٹرنری ٹیلی ہیلتھ کمپنی میں ریموٹ جاب بھی کر رہی ہیں۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سستا گھر خریدنے سے پہلے مقامی قوانین، ٹیکس، قانونی کارروائی، پراپرٹی کی حالت اور مستقبل میں فروخت کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ کم قیمت جائیداد اکثر کسی نہ کسی معاشی یا قانونی وجہ سے سستی ہوتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق بعض افراد کے لیے یہ مہنگے ہاؤسنگ مارکیٹس کا متبادل راستہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔