عیسیٰ ترین: کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں نامعلوم افراد کی جانب سے ایک نجی دفتر پر دستی بم حملے کے نتیجے میں تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ اتوار کے روز پیش آیا، زخمی ہونے والے تمام افراد مذکورہ دفتر کے ملازمین ہیں۔ واقعے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ حملہ کوئٹہ میں چند ہفتے قبل ہونے والے ایک مہلک دھماکے کے بعد سامنے آیا ہے۔ فروری 2025 میں کوئٹہ کے علاقے مارگٹ میں ایک بم دھماکے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے چار اہلکار شہید اور تین شدید زخمی ہوئے تھے۔
اس واقعے میں سیکیورٹی فورسز کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ علاقے میں نصب ایک اور دیسی ساختہ بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔شہید ہونے والے ایف سی اہلکاروں میں صوبیدار شہزاد امین، نائب صوبیدار عباس، سپاہی خلیل اور سپاہی زاہد شامل تھے۔