راؤ دلشاد: حکومت پنجاب نےخواتین کو وراثتی جائیداد دلوانے کو ہر صورت لازم قرار دینے کا فیصلہ کر لیا،خواتین کے وراثتی حقوق کا نفاذ بل 2025 پنجاب اسمبلی میں پیش کردیاگیا۔
پنجاب اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں خواتین کو ان کا شرعی وراثتی حق دلوانے کے لیے ایک اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رکن اسمبلی اسما احتشام الحق نے "خواتین کے وراثتی حقوق کا نفاذ بل 2025" ایوان میں پیش کر دیا، جس کے تحت خواتین کو وراثتی جائیداد سے محروم کرنا قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔
بل کے متن کے مطابق کسی بھی خاتون کو شریعت کے مطابق وراثتی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت کو محتسب (Ombudsperson) مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جہاں متاثرہ خواتین اپنی شکایات درج کروا سکیں گی۔
محتسب کو بل کے تحت نہ صرف زمینوں کا ریکارڈ درست کرنے کا اختیار حاصل ہو گا بلکہ وہ قانونی کارروائی (استغاثہ) بھی کر سکے گا اور ضرورت پڑنے پر ثالثی کا کردار بھی ادا کرے گا۔
مزید برآں، بل کے مطابق فاسٹ ٹریک وراثتی ٹربیونل قائم کیے جائیں گے، جن میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فرائض انجام دیں گے۔
بل میں سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ کسی خاتون کا وراثتی حق تلف کرنے پر تین سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اگر یہی جرم دوبارہ کیا جائے تو سزا پانچ سال قید اور بیس لاکھ روپے جرمانہ تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
خواتین کو ان کے وراثتی حقوق سے متعلق آگاہی مہمات بھی بل کا حصہ ہوں گی، جن کے تحت سکولوں، مدارس اور خطبات میں وراثت سے متعلق شریعت کے مطابق تعلیم دی جائے گی۔
بل کی منظوری کے بعد حکومت کو نوے دن کے اندر متعلقہ قانون سازی کرنا ہو گی۔ فی الحال بل کو قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے، جو دو ماہ میں رپورٹ پیش کرے گی۔ رپورٹ کی منظوری کے بعد بل کو رائے شماری کے ذریعے ایوان سے منظور کرایا جائے گا، جس کے بعد گورنر پنجاب اس کی حتمی منظوری دیں گے۔
یہ قانون خواتین کے لیے ایک مضبوط قانونی تحفظ فراہم کرے گا اور ان کے وراثتی حقوق کی بحالی کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔