وفاقی حکومت نے ایک بار پھر عوام پر بجلی گرا دی

(شاہد ندیم سپرا) مہنگائی، لاک ڈاؤن سے پریشان عوام کیلئے بری خبر،  وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نیپرا نے فروری میں استعمال ہونیوالی بجلی پر پینسٹھ پیسے فی یونٹ کے حساب سے اضافہ کر دیا۔

بجلی صارفین اٹھارہ کروڑ روپے کے ریلیف سے محروم 

نیپرا میں فروری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت ہوئی، نیپرا نے فروری کے بجلی بلوں میں پینسٹھ پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دیدی، درخواست کی سماعت چیئرمین توصیف فاروقی کی سربراہی میں ہوئی، قیمت میں اضافے سے صارفین پر چار ارب انسٹھ کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، فروری میں کم ایل این جی ملنے کے باعث صارفین کو اکیس کروڑ کا ریلیف بھی نہیں مل سکا، اسی طرح زیادہ بہتر معیار والے پلاٹس کو مکمل استعمال نہ کرنے کے باعث صارفین اٹھارہ کروڑ روپے کے ریلیف سے محروم رہے، صارفین سے فروری کی فیول ایڈجسٹمنٹ اپریل کے بلوں میں وصول کی جائے گی۔

 رمضان میں انڈسٹریل و کمرشل سیکٹر کو بجلی کی سپلائی معطل کرنے کا فیصلہ

دوسری جانب وفاقی حکومت نے ماہ رمضان میں انڈسٹریل و کمرشل سیکٹر کو بجلی کی سپلائی معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا، ذرائع کے مطابق بجلی کی جنریشن میں کمی کی وجہ سے صنعتی سیکٹر کو سپلائی بند کی جائے گی، رمضان المبارک میں لیسکو کی ڈیمانڈ4000 میگاواٹ سے تجاوز کر جائے گی، ڈیمانڈ میں اضافے سے بڑے صارفین کو بجلی بند کر کے سسٹم چلایا جائے گا، سحری و افطاری کے اوقات کار میں بجلی سپلائی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔